تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 569
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشاد فرمودہ 02 اپریل 1978ء ہے۔لکھیں گے ، Paris ( پیرس ) اور بولیں گے، پاری۔گو یا لکھنے اور بولنے کا بڑا فرق ہو گیا۔لیکن جرمن زبان میں اس طرح نہیں ہوتا۔دوسرے جرمن زبان میں a کا ایک pronunciation ( تلفظ ) ہے۔انگریزی زبان میں غالباً تین، چار ہیں۔ایک ہی آ بھی آتا ہے، at آے بھی آ گیا، able ابھی آ گیا۔یعنی اس کی sound مختلف ہو جاتی ہے۔جرمن زبان میں ہر vowel کی ایک sound ہوتی ہے۔اس واسطے اس کی بول چال بڑی جلدی آجاتی ہے۔ایک دفعہ چھٹیوں میں، میں جرمنی میں پھر رہا تھا۔میں نے پندرہ دن میں اتنی زبان سیکھ لی کہ آسانی سے بات کر سکتا تھا۔جرمن زبان کا تلفظ بھی مشکل نہیں ہے۔اگر میں کسی سے کوئی فقرہ بول لیتا تھا تو وہ سمجھتا تھا، مجھے بڑی زبان آتی ہے۔تو لگ پڑتا تھا اڑ اڑ کر کے بات کرنے اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی تھی۔لیکن جہاں تک زبان کے لحاظ سے اس کی علمی حیثیت کا تعلق ہے، جرمن زبان کا یہ اصول ہے کہ اس میں لفظ سے لفظ جوڑتے چلے جاتے ہیں۔بیچ میں وقفہ نہیں ڈالتے۔میں نے چند ہفتے میونخ یونیورسٹی میں غیر ملکیوں کا ایک کورس attend کیا تھا۔مجھے وہاں ایک پروفیسر نے کہا یہ دیکھو، ہماری زبان کا قصہ۔سوا صفحے کا ایک لفظ ہے، جسے جوڑ جوڑ کے بنایا گیا ہے۔یعنی ایک لفظ کی صفح کے شروع سے ابتداء ہوئی اور وہ صفحہ ختم ہو گیا لیکن لفظ نہیں ختم ہوا۔پس جہاں تک علمی زبان کا تعلق۔اس میں آکر مشکل پیدا ہو جاتی ہے۔پس ہمارے جامعہ احمدیہ میں کم از کم بول چال کی جو زبان ہے، وہ ان کو کھا دینی چاہیے۔لیکن علمی زبان کے لئے تو پھر بہت محنت کرنی پڑتی ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔علمی زبان کی الجھن کا تو یہ حال ہے کہ ہم نے فرانسیسی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ کروایا۔وہ ایک جگہ سے کروایا۔وہ چھپنے کے قریب تھا کہ دوسری جگہ سے اعتراض ہو گیا کہ ترجمہ ٹھیک نہیں۔ہم نے پھر ان سے کروایا۔پھر تیسری جگہ سے اعتراض ہو گیا کہ ترجمہ ٹھیک نہیں۔اب میرے خیال میں پانچویں دفعہ کوشش ہورہی ہے کہ اس ترجمے کو درست کر دیا جائے۔پس علمی زبان کا تو یہ حال ہے۔کسی نے مشورہ دیا کہ نہیں یہ تو اس کا صحیح مفہوم نہیں ادا ہوتا۔یہ idiomatic فریج نہیں ہے۔پڑھنے والوں پر اثر یہ پڑے گا کہ ترجمہ اچھا نہیں کیا گیا وغیرہ وغیرہ اور بہت سارے اعتراضات آگئے۔اس لئے میں خاص وجہ سے یہ بات کر رہا ہوں۔ہمارے لئے ، جنہوں نے اگلے چالیس، پچاس سال میں قرآن کریم کے تراجم شائع کرنے ہیں، یہ مسئلہ خاصی اہمیت کا حامل ہے۔کچھ حصے تو پہلے مکمل ہو جائیں گے۔یعنی غلبہ اسلام کی صدی شروع ہونے سے قبل بھی ہم نے کچھ ترجمے شائع کروانے ہیں، کچھ بعد میں ہوں گے۔سوزبانوں میں ترجمہ کروانا 569