تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 568

ارشاد فرمودہ 02 اپریل 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم ہوتے۔اور وہ جو یہاں آکے اردو سیکھتے ہیں، اس سے زیادہ ہم لوگ انگریزی سیکھ جاتے ہیں۔وہاں یہ ہے کہ جو دس لفظ اردو کے بولے تو انگریز اگر آپس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو وہ اس کو appreciate کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن یہاں یہ گندی عادت ہے کہ اگر سولفظ انگریزی کے ہمارے ملک میں اپنی مجلس میں بولے اور ایک سو، ایکویں تلفظ میں غلطی کر جائے تو اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیتے ہیں۔اور ایسا مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ بیچارہ پھر ایک سو دو میں لفظ پر آتا ہی نہیں۔وہیں ختم ہو جاتا ہے۔اس کا full stop لگ جاتا ہے۔تو بنیادی طور پر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر زبان غلط بولنے سے آتی ہے۔اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ہر زبان کو سب سے پہلے اس ملک کا بچہ سیکھتا ہے۔انگریز کا بچہ انگریزی سیکھ رہا ہے، جرمن میں رہنے والا بچہ جرمن سیکھ رہا ہے، ہمارا پاکستان میں رہنے والا اردو یا پنجابی یا پشتو یا سندھی یا بلو چی سیکھ رہا ہے۔اور ہر بچہ شروع میں غلط زبان بولتا ہے، تب جا کے سیکھتا ہے۔اگر بچے کے اوپر بھی آپ یہ قدغن لگا دیں کہ یہ صحیح فقرہ ہے، بولنا ہے تو بولو، ورنہ چپ رہو تو وہ بھی بھی زبان نہ سیکھے۔اس واسطے زبان سیکھنے کا اصول ہی یہ ہے کہ وہ غلط بولی جائے۔پھر وہ خود بخود بیج ہو جاتی ہے۔لیکن ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔پس اگر انگریزی اور عربی بولنے والے جامعہ کو دے دیئے جائیں یا ان کو میسر آجائیں ، یعنی اگر ہماری خواہش بھی ہو اور کوئی آدمی نہ ملے تو مشکل پڑ جائے گی کہ جو ان کے ساتھ انگریزی اور عربی بولیں۔یعنی بولیس ہی انگریزی اور عربی۔جو عربی بولنے والا ہے، وہ عربی بولے۔جو انگریزی بولنے والا ہے، وہ انگریزی بولے تو وہ عام روز مرہ کی زبان بڑی جلدی سیکھ سکتے ہیں۔زبانوں کے دو حصے ہیں۔ایک روزمرہ کی زبان ہے، بول چال میں۔اور اس کے لئے دنیا کے چوٹی کے ماہر دماغوں نے یہ تجربہ کیا ہے کہ تین کو رسزان کے لئے کافی ہیں۔پہلا کورس دوسو الفاظ کا ہوتا ہے۔دوسو لفظ بہت ساری ضرورتیں پوری کر جاتے ہیں، روزمرہ کی زندگی میں۔اور دوسرا کورس پانچ سوالفاظ کا۔اور تیرا کورس ایک ہزار الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔اور اس کے بعد وہ کہتے ہیں کہ اب عام بول چال کے لئے مزید زبان کی ضرورت ہی کوئی نہیں رہی۔پھر وہ خود ہی فقرے بول بول کے سیکھتے چلے جاتے ہیں۔یعنی وہ ترقی کرتے چلے جاتے ہیں۔میں نے ایک کورس اس قسم کا منگوایا تھا، وہ غالباً عربی کا تھا۔میر محمود احمد پستہ کر لیں کہ وہ کہاں کیا ہے؟ یہ جو دنیا دار لوگ ہیں، ان کی دنیوی روز مرہ کی جو بول چال ہے، اس کے متعلق میں بات کر رہا ہوں۔باقی تو جو علمی زبان ہے، یہ دوسری قسم کی زبان ہے ناں۔جو بول چال کی زبان سے مختلف ہے۔مثلاً ایک آپ کو زبان سیکھنے کا لطیفہ سنادوں۔جرمن زبان ہمارے لئے بونی آسان ہے، اس کا تلفظ بڑا آسان ہے۔جو حروف لکھتے ہیں، اس کے مقابلے میں آواز بھی ہے۔فرانسیسی کی طرح نہیں ہے کہ 568