تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 567
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشاد فرمودہ 02 اپریل 1978ء احمدیوں میں مخلص علم دین سے واقف ،سوز بانوں کے ماہر ہونے چاہئیں ارشاد فرمودہ 102 اپریل 1978ء برموقع مجلس شوریٰ دوسری تجویز ہے کہ جامعہ احمدیہ میں انگریزی اور عربی زبان میں گفتگو کرنے کا ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ فارغ التحصیل طلباء ان دونوں زبانوں میں اپنا مافی الضمیر کما حقہ ادا کرسکیں۔ویسے انگریزی وہاں ڑھائی جاتی ہے اور عربی تو بہت پڑھائی جاتی ہے۔اور عربی زبان میں میرا خیال ہے کہ سارے تو نہیں لیکن خاصی تعداد ہر سال ایسے طلباء کی نکلتی ہے، جو عربی زبان میں گفتگو کر سکتے ہیں۔آگے مشق تو کرنی ضروری ہے۔اگر ان کو مشق کا موقع ملے۔کیوں میر محمود احمد صاحب ! آپ کتنی عربی پڑھالیتے ہیں، اچھے لڑکوں کو، جو عربی کا شوق رکھنے والے ہیں؟ ( اس پر مکرم میر محمود احمد صاحب نے عرض کیا کہ جامعہ پاس کرنے والے لڑکوں میں سے قریباً 33 فیصد لڑ کے بے تکلفی سے عربی میں بات کر سکتے ہیں۔) ہاں یہی میں نے کہا ہے کہ ایک ایسا حصہ ہے، جو عربی زبان میں بات کر لیتے ہیں۔یہ بڑا اچھا ہے، اگر 33 فیصد ہو جائے۔اور جو انگریزی کی بات ہے، اس کے متعلق جو میر اعلم ہے، وہ یہ ہے کہ بعض طبیعتوں کا میلان ہوتا ہے، کسی ایک زبان کی طرف بعض کا نہیں ہوتا۔یا شوق ہوتا ہے۔میلان کے علاوہ ایک چیز شوق بھی ہے۔انگریزی بولنے کا شوق ہو تو وہ انگریزی بھی بول لیتے ہیں۔ویسے زبان سیکھنے کا ایک گر ہے۔جب یہاں سے عطاء المجیب کولندن میں مبلغ بنا کے بھیجا گیا تو میں نے انہیں جاتے ہوئے ایک نصیحت کہ بلکہ ایک حکم دیا۔میں نے انہیں کہا کہ میرا حکم یہ ہے کہ تم لندن جا کے غلط انگریزی بولو گے اور گھبراؤ گے نہیں۔اور انہوں نے اس حکم پر عمل کیا۔یعنی یہ خیال ہی نہیں کیا کہ میں صحیح بول رہا ہوں یا غلط۔بولنی شروع کر دی اور آہستہ آہستہ انگریزی کے بڑے اچھے مقرر بن گئے۔تو جو شخص گھبراتا ہے ،shy ہو جاتا ہے، وہ سیکھ نہیں سکتا۔تو ہائیڈ پارک میں جا کر غلط سلط انگریزی میں اپنا مفہوم ادا کرنے کی مشق کرنی چاہیے۔بات یہ ہے کہ جو اچھا انگریزی دان، مثلاً پاکستان سے انگریزی کا پاکستانی سکالر انگلستان جاتا ہے تو جب وہ انگریزی میں گفتگو کرتا ہے تو انگلستان کے نانوے فیصد انگریز ویسی اچھی انگریزی نہیں بول رہے 567