تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 558
پیغام فرمودہ 03 دسمبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم مستور دلوں پر فرشتوں کا نزول ہوا اور وہ آواز سمندروں اور پہاڑوں کو چیرتی ہوئی دنیا کے کناروں تک پھیل گئی۔نوے برس قبل جو شخص یکا و تنہا اور بے یارو مددگار نظر آتا تھا، آج ایک کڑور انسانوں کے دلوں میں اس کی محبت رچی ہوئی ہے۔اور وہ اس کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اپنی جان و مال کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔جب سے زمین و آسمان بنے ہیں، ایسی تائید و نصرت الہی ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حاصل ہوئی کسی جعل ساز اور فریبی کو نصیب نہیں ہوئی۔اس میں ہر اس شخص کے لئے ، جو اپنے رب کا پیار حاصل کرنا چاہتا ہے، ہدایت کا بہت کچھ سامان موجود ہے۔اس وقت میں آپ کی توجہ دو، تین امور کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں۔قرآن کریم کی آیت لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات، بزرگان امت کے کشوف اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر غور کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی زندگی کی دوسری صدی ( جواب سے دس، گیارہ سال بعد شروع ہونے والی ہے۔) انشاء اللہ تعالیٰ دنیا میں غلبہ اسلام کی صدی ہوگی۔اس صدی کا استقبال کرنے کے لئے ہماری جماعت پر چند ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔جنہیں کسی حد تک پورا کرنے کے لئے میں نے صد سالہ جوبلی کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔اور بتایا تھا کہ اس کے ذریعے ہم نے ہر ملک میں مساجد اور مشن ہاؤس قائم کرنے اور قرآن مجید کے تراجم کو دنیا بھر میں پھیلا نا ہے۔ہر ملک کی سعید روحیں ہم سے مطالبہ کر رہیں ہیں کہ ہم ان کے سامنے اسلام کی حسین تعلیم کو پیش کریں اور تراجم قرآن کریم ان کے لیے مہیا کریں۔جب ہم علی وجہ البصیرت اس ایمان پر قائم ہیں کہ ہمیں خدا نے غلبہ اسلام کے لئے پیدا کیا ہے تو پھر ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی طاقت کے مطابق اس بارے میں ہر ممکن کوشش کریں۔اور قربانی کرنے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھیں۔ضرورت کے لحاظ سے ہماری کوشش میں جو کمی رہ جائے گی ، وہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خود پوری کر دے گا۔یہ بھی یادر ہے کہ غلبہ اسلام کی مہم کو چلاناکسی ایک نسل کا کام نہیں۔اس کے لئے ہمیں نسلاً بعد نسل قربانی دینی ہوگی۔اور یہ کام سرانجام نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ ہم اس امر کے لئے پوری توجہ سے اپنی اولادوں کی دینی تعلیم و تربیت کا انتظام نہ کریں۔ہمیں خود بھی قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنا اور اس کے مطالب اور معارف سے آگاہی حاصل کرنی چاہئے اور اپنے اہل وعیال میں بھی اس کا ذوق پیدا کرنا چاہئے۔558