تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 544 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 544

اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء انَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم (الجن : 19) کا مفہوم۔جو مساجد خدا کے لئے اور اس کی رضا کے حصول کے لیے بنائی جائیں، وہ اسی قسم کی مساجد ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ صد سالہ جوبلی منصوبہ نے اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ توفیق پائی کہ لندن میں Deliverance of Jesus from the cross کے موضوع پر کانفرنس ہوئی۔ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس کے وہ نتائج نکلیں گے، جو نکلے۔ایک بات جس کی کوئی اتنی اہمیت نہیں ہے، لیکن بہر حال اسے پڑھ کر لطف آیا یہ ہے کہ ایک عیسائی اخبار نے لکھا کہ کانفرنس ہوگئی اور انگلستان پر جو کہ عیسائی ملک تھا، اسلام کی زبر دست یلغار ہو گئی اور چرچ یعنی کلیسیا خاموش بیٹھا ہے۔پتہ نہیں ، ان کو کیا ہو گیا ہے؟ کیا سوچ رہے ہو تم؟ خاموش کیوں بیٹھے ہو؟ تمہارے اوپر تو زبردست حملہ ہو گیا ہے۔یہ احساس اس کانفرنس نے پیدا کیا ہے۔وہ لوگ خاموش بیٹھے تھے، جو کہ حضرت مسیح موعود کے دعوی سے پندرہ ہیں سال قبل یہ اعلان کر چکے تھے، (اور وہ اعلان ہماری لائبریری میں محفوظ ہیں) انہوں نے اعلان کیا کہ سارا ویسٹ افریقہ خداوند یسوع کی جھولی میں ہے۔اور اب یہ حال ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور جماعت احمدیہ کی کوششوں میں خدا نے جو برکت ڈالی، اس کی وجہ سے مغربی افریقہ میں پانچ لاکھ سے زیادہ عیسائی مسلمان ہو چکے ہیں۔اور انہوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے، جب خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ اور مدینہ پر لہرائے گا۔اور اب یہ حالت ہے، کیتھولک فرقہ ، جو کہ عیسائیت میں اپنی تعداد کے لحاظ سے اثر و رسوخ کے لحاظ سے، مال کے لحاظ سے، رعب کے لحاظ سے اور تنظیم کے لحاظ سے سب سے بڑا فرقہ ہے، اس نے اپنے پادریوں کو بھی یہ ہدایت کی ہے کہ کسی احمدی سے بات نہیں کرنی اور نہ ان سے کوئی کتاب لے کر پڑھنی ہے۔وہ جھنڈا تو کبھی وہاں نہیں لہرائے گا۔اور اس کے بعد جو بات میں کہنے والا ہوں، وہ صرف ایک خواہش کا اظہار ہے۔کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اگر اس کے لئے جان دینے کی ضرورت پڑی تو اس جھنڈے کے لہرانے سے پہلے آخری احمدی کا خون بہہ چکا ہوگا۔( تمام حاضرین نے بیک آواز انشاء اللہ تعالیٰ کہا اور پھر نعرہ ہائے تکبیر اور اسلام زندہ باد کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔) 544