تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 543 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 543

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 29اکتوبر 1978ء پہلے برکت کا یہ موقع دیا کہ سویڈن میں اس منصوبہ کے تحت یورپ کی جماعتوں کے چندے اور قربانی سے مسجد تعمیر ہوئی۔ہمارے ملک میں بسنے والوں کی ایک دھیلے کی بھی Contribution (کنٹری بیوشن ) اور قربانی اس میں شامل نہیں۔ساری کی ساری بیرونی جماعتوں کی قربانی ہے۔تھوڑی سی رقم انہوں نے امریکہ سے قرض لی تھی، جس کا ایک حصہ واپس کر دیا ہے۔اور دوسرا حصہ بھی عنقریب واپس ہو جائے گا۔چنانچہ ایک نہایت خوبصورت مسجد گوٹن برگ، سویڈن کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر بنی ہے۔وہاں پتھر یلی زمین تھی ، جس میں اس سائبان کی اونچائی جتنے بڑے بڑے پتھر زمین میں دھنسے ہوئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے وہ ہمارے لئے ریز رور کھی ہوئی تھی۔کسی اور کے دل میں خواہش ہی نہیں پیدا ہوئی کہ اس کو لے کر پتھروں کو صاف کر کے وہاں کوئی چیز بنالے۔وہ ہمارے حصہ میں آگئی۔خاصی بڑی جگہ ہے۔غالباً دوا پیکر کے قریب ہے۔غرض اس چوٹی پر مسجد بن گئی ہے اور سارے شہر کو، سوائے اس کے جو بعض پہاڑیوں کے سائے میں آیا ہوا ہے، مسجد نظر آتی ہے۔اور مسجد سے سارا شہر نظر آتا ہے۔نہایت شاندار اور خوبصورت مسجد ہے۔اور وہاں سے خدا تعالیٰ کا نام بلند ہو رہا ہے۔اور یہ وہاں کا معمول ہے کہ روزانہ کوئی نہ کوئی وفد یا سکول کے ٹیچرز کے ساتھ کوئی پارٹی یا کچھ لوگ مسجد دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔عیسائیوں نے یہ مشہور کر دیا ہے کہ عورت مسجد میں داخل نہیں ہوسکتی۔چنانچہ جب 76ء میں ، میں نے اس کا افتتاح کیا تو عورتوں میں یہ شوق پیدا ہوا کہ ہم جا کر دیکھیں تو سہی کہ وہ کون سی عمارت ہے، جس میں عورت نہیں داخل ہو سکتی ؟ جب وہ آتی تھی تو ہمارے مبلغ اور دوسرے احمدی جو وہاں موجود ہوتے تھے، ان کو کہتے تھے کہ تمہیں کسی نے غلط بتایا ہے، تم اندر جا سکتی ہو۔وہ کہتیں کہ اچھا، ہم جاسکتیں ہیں۔وہ کہتے کہ صرف یہ ہے کہ تم پتہ نہیں ، کہاں پھرتی رہی ہو؟ تمہارے جوتوں کو گند لگا ہوا ہوگا ، ان کو باہر اتار دو اور اندر چلی جاؤ۔چنانچہ وہ بڑے شوق سے اور پیار کے ساتھ اندر جاتیں اور دیکھتیں۔مسجد اپنے اندر ایک عجیب شان اور ایک رعب کی کیفیت پیدا کرنے والا خاصہ رکھتی ہے۔اور جو بھی اندر جاتے ہیں ، خواہ غیر مسلم ہوں، بے ساختہ ان کی زبان سے نکلتا ہے کہ یہاں تو بڑی پرسکون فضا ہے، یہاں تو ہم پر عجیب اثر ہوتا ہے۔وہاں نہ کوئی تصویر ہے ، نہ کوئی اور سجاوٹ کی چیز۔ایک چیز ہے، جو اس کو سجارہی ہے۔اور وہ ہے، خدا تعالیٰ کی بزرگی اور قدوسیت اور واحدنیت کی تعلیم کو عام کرنے کا عزم ، جو نمازی وہاں اپنے دل میں لے کر جاتے ہیں۔اور جو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہیں، وہ مسجد کے اندر کوئی ایسی چیز پیدا کرتے ہیں کہ جب عیسائی اس ہوا میں سانس لیتا ہے تو اس سے اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔یہ ہے 543