تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 537 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 537

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 29 اکتوبر 1978ء نور کی ظلمات سے آخری گھمسان کی جنگ کے وسط میں ہم کھڑے ہیں خطاب فرمودہ 29 اکتوبر 1978ء بر موقع سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مرکزیہ دو 1973ء کے جلسہ میں، میں نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے ایک قدم ، جو جماعت کو اٹھانا چاہئے ، اس کا ذکر کرتے ہوئے ، جو صدی گزررہی ہے، اس کی جو بلی اور یہ کہتے ہوئے، مجھے زیادہ لذت آتی ہے کہ اپنی زندگی کی دوسری صدی کے استقبال کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔استقبال کے لئے اس لئے کہ خد تعالیٰ نے جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (الصف: 10) میں اور قرآن کریم میں سینکڑوں دوسری جگہ بتایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور بزرگان امت کو جو وحی اور کشوف اور رویا میں بتایا گیا اور حضرت مسیح موعود نے خدا تعالی سے جو علم پایا، اس کو سامنے رکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہماری زندگی کی دوسری صدی ساری دنیا میں اسلام کے غالب آ جانے کی صدی ہے۔اس واسطے جس صدی میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے غلبہ اسلام عملاً ہو جائے گا، اس عظیم صدی کا ہمیں استقبال کرنا چاہئے۔یہ ایک منصوبہ ہے اور وقت کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور منصوبے بھی ذہن میں ڈالتا ہے، جو وقت وقت پر آپ کو بتا دیئے جاتے ہیں۔اس منصوبے کی بہت سی شاخیں ہیں۔مثلاً یورپ کے جن ممالک میں مساجد اور ہمارے مرکز یعنی مشن ہاؤسر نہیں بنے ، وہاں مساجد اور مشن ہاؤسز بنادیئے جائیں۔تا کہ یورپ کے ہر ملک میں خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کا مرکز قائم ہو جائے اور ہمارا مبلغ وہاں بیٹھے اور لوگوں سے تبادلہ خیال کرے۔اور ہر روز کے بدلے ہوئے حالات میں ان کی عقل اور سمجھ کے مطابق ان سے اسلام کی باتیں کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر شخص سے اس کی سمجھ کے مطابق بات کیا کرو۔ہر ملک کا اپنا مزاج ہے۔اٹلی کا مزاج اور ہے اور سکینڈے نیوین کنٹریز کا مزاج اور ہے۔ہر مبلغ اپنے اپنے ملک کے حالات کے مطابق ان سے بات کرے گا۔اور اسلام کی بنیادی حقیقتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے ان 537