تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 534
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 21اکتوبر 1978ء گے۔اپنی زندگی میں تو ہم نے یہ دیکھ لیا۔ہر جگہ ہر مضمون کے ماہر مجھے ملتے رہتے ہیں، فزکس کے، کیمسٹری کے حساب کے۔میں ان سے بات کرتا ہوں اور ان علوم کی غلطیاں ان کو بتا تا ہوں۔حساب کی غلطیاں اور اس کے نقص بھی بتا تا ہوں اور اس سے جو فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے، وہ بھی بتاتا ہوں۔میری تو کوئی خوبی نہیں ہے۔خدا نے ایک وعدہ کیا تھا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک غلام سے، جس کو وہ پورا کر رہا ہے۔آپ کی زندگیوں میں بھی پورا کرے گا۔اگر آپ اس کی طرف جھکیں۔یہ صرف میرے لئے تو وعدہ نہیں ہے، جماعت احمدیہ کے لئے وعدہ ہے۔پس آپ کو اپنی زندگیوں میں علمی لحاظ سے بھی یہ رنگ پیدا کرنا چاہئے۔آپس میں علمی باتیں کیا کریں اور اسلام کو غالب کرنے والی باتیں کیا کریں۔میں تو جب کسی مسئلہ پر بات ہو، آخر میں نتیجہ اپنے مطلب کا لے آتا ہوں۔یعنی اسلام کی خوبی ان کو بتا دیتا ہوں۔کوئی بات کوئی شخص کرے، میں جواب دیتے دیتے بہت سی باتوں کا قائل کر کے ایک جگہ یہ کہتا ہوں کہ اسلام یہ کہتا ہے۔پھر وہ نہ کر ہی نہیں سکتے کہ اسلام کی یہ تعلیم غلط ہے۔آپ میں سے ہر ایک اس قابل ہو سکتی ہے۔کوشش تو کر کے دیکھیں۔دنیا عمل کا نمونہ مانگتی ہے۔جب وہ کہتے ہیں کہ عملی نمونہ دکھاؤ تو ہم بڑی الجھن میں پڑ جاتے ہیں۔میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔آپ سے میں یہ کہتا ہوں کہ احمدی عورت میں اور یورپ کی ہر عورت میں ایک مابہ الامتیاز اور فرقان ہونا چاہئے۔جب وہ آپ سے ملے اور بات کرے تو وہ سمجھے کہ یہ تو ایک بالا ہستی ہے۔ایک ایسا وجود ہے، جس کو کوئی ایسی جگہ ملی ہے، جس سے اس نے تعلق قائم کیا اور وہ کچھ حاصل کیا، جو ہم حاصل نہیں کر سکے۔اخلاق کے لحاظ سے اچھے ہیں، کسی سے دشمنی نہیں کرتے۔ہر ایک سے پیار کرتے ہیں، کسی کو طعنہ نہیں دیتے۔ہر ایک کی خیر خواہی کرتے ہیں۔باہر ہم سے سوال کرتے ہیں کہ فلاں کے متعلق کیا خیال ہے ؟70ء میں مجھ سے پہیوں کے متعلق پوچھنے لگے۔یہ لوگ جن کو مار جیانا کھانے کی عادت پڑ جاتی ہے، ہر وقت بدمست ، داڑھیاں بھی چھوڑی ہوئی، ناف سے نیچی اور بال بھی کبھی صاف نہیں کئے۔اگر جوئیں پڑ جائیں تو کوئی نکالنے والا نہیں۔عجیب ہیبت کزائی بنائی ہوئی ہے۔نہایت گندے کپڑے، بد بودار، ان کے قریب نہیں بیٹھا جا سکتا۔ایک ایسی جماعت بھی یورپ میں پیدا ہوگئی تھی ، جن کو یہی کہا کرتے تھے۔اب کچھ فرق پڑا ہے۔مجھ سے ان کے متعلق پوچھنے لگے تو میں نے کہا کہ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ یہ انسانوں والی زندگی نہیں گزار رہے۔بلکہ حیوانوں والی زندگی گزار رہے ہیں۔پھر فوراً مجھے خیال آیا کہ میں نے پوری تعلیم بیان نہیں کی۔چنانچہ میں 534