تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 533 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 533

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اس کی اخلاقی صلاحیتیں، اور اس کی روحانی صلاحیتیں۔خطاب فرمودہ 21اکتوبر 1978ء ہر وہ کام جو ان صلاحیتوں کی صحیح نشو و نما کرتا ہے، وہ لغو میں شامل نہیں۔اور ہر وہ کام جو خداداد صلاحیتوں میں کمزوری پیدا کرنے والا ہے، وہ لغو ہے۔اس معنی میں قبیح کا لفظ اور گناہ کا لفظ بھی لغو کے اندرآ جاتا ہے۔محض بے مقصد اور بے معنی اور لایعنی اور غیر مفید کام بھی لغو کہلاتا ہے۔لیکن صرف وہی لغو نہیں بلکہ لغت عربی نے لغو کے معنی فصیح کے بھی کئے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ اس میں گناہ بھی آگیا۔پس ایسی تدبیر کریں، جو لغو نہ ہو۔آپ نے اپنے گھر میں تدبیر کرنی ہے، کھانا پکاتے وقت تدبیر کرنی ہے اور یہ علم بھی آپ کو آنا چاہئے۔آپ کو ایک لطیفہ سنادوں یہ ہم جہاز پر انگلستان سے اوسلو جارہے تھے۔اور اسی جہاز میں چالیس امریکن استانیاں بھی سفر کر رہی تھیں۔کہنے لگیں کہ جی ہم سیکنڈے نیوین ممالک یعنی ناروے، سویڈن وغیرہ کے معاشرے کا مطالعہ کرنے کے لئے جارہی ہیں۔انہوں نے مجھے دیکھا تو ایک ساتھی سے پوچھا کہ کون ہیں؟ اور ملنے کی خواہش ظاہر کی۔میرے ساتھیوں نے مجھے بتایا۔میں نے ان کی درخواست منظور کر لی۔جہاز کے بڑے کمرے میں ایک طرف انتظام کر دیا گیا۔وہ لوگ تو سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے عالم فاضل دنیا کے حاکم ہیں اور ساری دنیا ہماری غلام ہے، اس لئے میں ان کو ان کی اصل سطح پر لے آیا کرتا ہوں۔چنانچہ بجائے اس کے کہ وہ سوال کرتیں، میں نے سوال کیا کہ تمہارا کس شعبے سے تعلق ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہوم اکنامکس سے۔یہاں بھی ہماری بہت سی بچیاں کالج آف ہوم اکنامکس میں پڑھنے والی ہوں گی۔میں نے کہا، اچھا ہوم اکنامکس۔مجھے یہ بتاؤ کہ بکری کے گوشت اور مرغی کے گوشت میں کیلوریز (CALORIES) کے لحاظ سے کیا فرق ہے؟ ان میں سے ایک کو بھی جواب نہیں آیا۔اسی طرح میں نے ان سے سوال پوچھنے شروع کر دیئے۔جب پانچ ، سات سوال پوچھے تو وہ کھسیانی سی ہو کر کہنے لگیں کہ ہم نے تو آپ سے سوال کرنے تھے، آپ نے الٹا ہم سے سوال کرنے شروع کر دیئے۔میں نے کہا کہ اچھا ، اب تم سوال کر لو۔اب تمہاری باری ہے۔پھر میں نے ان کو اسلام کی باتیں سمجھانی شروع کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بشارت دی ہے کہ میں تیرے ماننے والوں کے علم میں اتنی برکت دوں گا کہ یورپ کا فلسفہ، جو آج اپنے سے باہر کی دنیا کو اپنا غلام سمجھتا ہے، نہ صرف یہ کہ وہ اس سے متاثر نہیں ہوں گے بلکہ اس کی غلطیاں چن چن کر ان پر ظاہر کرنے والے ہوں 533