تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 525
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرموده 21 اکتوبر 1978ء تین، چار اسی قسم کی اور فیکٹریوں کے منصوبے بن گئے اور انہوں نے اور قرض لیا۔اس طرح قرض کا یہ گیند لڑھکتا ہوا مستقبل کی گہرائیوں کی طرف بڑھتا چلا گیا۔اور زمانہ حال کی نسل آنے والی نسلوں کی مقروض ہو گئی۔اب انہوں نے کام کر کے، کما کر یہ پیسے واپس کرنے تھے۔اور چونکہ آنے والی نسلوں نے کما کر اپنے آباء واجداد کے تجارتی اور صنعتی قرضے واپس کرنے تھے ، اس لئے جب وہ نسلیں آئیں تو ان پر بڑا بوجھ پڑا گیا۔اور یہ بوجھ پڑا ، اٹم ٹیکس کی شکل میں بھی اور یہ بوجھ پڑا، جتنا حصہ رسدی ان کو اجرت کا اور مزدوری کا مل سکتا تھا، اتنا نہ دینے کی شکل میں بھی، افراط زر اور مہنگائی کی شکل میں بھی۔پھر انہوں نے دیکھا کہ ہماری ضرورتیں پوری نہیں ہور ہیں اور انہوں نے دیکھا کہ فیکٹری مثلا دس ارب روپیہ نفع کما رہی ہے اور ہمیں اس میں سے صرف دوارب مل رہا ہے۔وہاں ایسی فیکٹریاں بھی ہیں تو انہوں نے کہا کہ باقی آٹھ ارب روپیہ کہاں جاتا ہے؟ مزدور کو تو نہیں پتہ کہ کہاں جاتا ہے؟ اس میں سے بہت سی رقم ماضی کی نسلوں نے انہی کے آباء واجداد نے جو قرض لئے تھے، ان قرضوں کے بوجھ کو ہلکا کرنے کے لئے خرچ کی جارہی ہے۔غرض الجھنیں پیدا ہوتی چلی گئیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پابندیاں لگ گئیں کہ ملک کا روپیہ باہر نہیں جاسکتا۔اپنے ملک میں مصیبت پڑی ہوئی ہوتو روپیہ باہر کیسے جا سکتا ہے؟ جب میں کالج میں پڑھا کرتا تھا تو اس وقت ایسی کوئی دقت نہیں تھی۔اور جب 1924ء میں آپ نے لندن مسجد کے لئے عطا یا دیئے تھے تو اس وقت بھی یہ دقت نہیں تھی کہ ہندوستان سے روپیہ باہر نہیں جاسکتا۔بلکہ جا سکتا تھا اور گیا اور وہاں خرچ ہوا۔لیکن اب ہندوستان نے بھی اور پاکستان نے بھی اور صرف انہی دونوں نے نہیں بلکہ افریقہ کے قریباً سارے ممالک نے اور یورپ کے کچھ ممالک کو چھوڑ کر باقی اکثر ممالک نے پابندیاں لگادی ہیں۔بڑے بڑے مہذب کہلانے والے ممالک، جو آج کے قرض مستقبل کی کمائی پر اس وقت بہت امیر اور دولتمند نظر آ رہے ہیں، وہ بھی پابندیاں لگانے پر مجبور ہو گئے۔کیونکہ انہوں نے اپنے عجیب و غریب منصوبہ کے نتیجہ میں بڑی الجھنیں پیدا کر لیں تھیں۔اور اب ہم مثلاً پاکستان سے نہ کوئی رقم قانو نابا ہ بھیج سکتے ہیں اور ( چونکہ ہم قانون کی پابند جماعت ہیں ) نہ کوئی رقم باہر بھیجتے ہیں۔اور نہ ہم آپ سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلاں جگہ مسجد بنی ہے، عورتیں اپنی روایات کو قائم رکھتے ہوئے اب اس مسجد کے لئے پیسہ دیں۔اب ایسی تحریک ہو ہی نہیں سکتی۔کیونکہ رقم با ہر نہیں جاسکتی۔جہاں تک جماعت احمدیہ کی ضروریات کا سوال ہے، جو کہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان کیا کہ قبل اس کے کہ ایسے حالات پیدا ہوں کہ ملک ملک یہ قانون بنائے کہ پیسہ باہر 525