تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 518
خطبہ جمعہ فرمودہ 20 اکتوبر 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم باندھ دیا ہے۔انگلستان کی جماعت ہے، یہ دوسرے ملکوں کی جماعتوں کو حسب ضرورت روپے بھیجتی ہے اور اس طرح تبلیغ اسلام کا سارا کام اپنی اپنی جگہ پر ہورہا ہے۔پس اس عرصہ میں مرکز کے پاس بیرونی جماعتوں کی طرف سے کسی وقت بھی جماعت کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ایک دھیلہ نہیں آیا۔اس کے برعکس جماعت ہائے احمدیہ مرکز یہ کواللہ تعالی نے یہ توفیق دی کہ جب تک ملکی قانون نے باہر روپیہ بھجوانا ممنوع قرار نہیں دے دیا، اس وقت تک مرکز باہر کی جماعتوں کی مددکرتارہا۔اور یہ بیرونی ملکوں کی جماعتوں پر بڑا احسان تھا۔اللہ تعالیٰ آپ کو بھی احسن جزا دے اور آپ کی نسلوں کو بھی۔آپ کے عزم کو پختہ کرے، آپ کی ہمتوں کو بلند کرے اور تقویٰ کو مقبول بنائے اور اعمال کو صالح بنائے۔آپ خود بھی اور آپ کی آنے والی نسلیں بھی اس تحریک کے مجاہد، مسکین اور خدا کے عاجز بندے بنیں، جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے انقلاب عظیم کی بشارت دی ہے اور جن کے ذریعہ سے گو چھوٹی سی جماعت ہے لیکن خدا تعالیٰ انقلاب عظیم بپا کر رہا ہے۔جیسا کہ صرف ایک بات بتا رہی ہے کہ 1934 ء بلکہ 1944ء کے بعد کتنا عظیم انقلاب بپا ہو گیا کہ وہ لوگ ، جو اسلام کے نام پر ایک دھیلہ بھی دینے کے لئے تیار نہیں تھے، ان کی مجموعی آمد ایک کروڑ ، ساٹھ لاکھ سے تجاوز کر گئی۔اور تحریک جدید کی پچھلے سال کی آمد تیرہ لاکھ ہے۔صدرا انجمن احمد یہ اور تحر یک جدید کے مجموعی چندے بھی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ نہیں بنتے۔لیکن اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے، وہ بیرونی ملکوں کی جماعتوں پر بھی بڑے فضل کرتا ہے۔عشق الہی کا ایک ہی بندھن ہے اور وہ اس میں بندھے ہوئے ہیں۔ایک مرکز ہے، ایک ان کا امام ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک عاجز نائب ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے برکتوں کا سامان اس کے ذریعہ سے بھی کرتا ہے۔اگر چہ پاکستان سے بیرونی ممالک کو روپیہ نہیں جاسکتا۔لیکن تحریک جدید کے بہت سے ایسے کام ہیں، جن کا تعلق باہر سے ہے۔مثلاً باہر بھجوانے کے لئے مبلغ تیار کرنا۔وہ یہاں تیار ہوتے ہیں۔پیسہ یہاں خرچ ہوتا ہے لیکن جب مبلغ بن جاتا ہے تو پھر اسے باہر بھجوایا جاتا ہے۔اس کے کرایہ پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔مبلغین کے بیوی بچوں کے قیام کے اخراجات تحریک جدید کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔جامعہ احمدیہ پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔بہت سے شعبے ہیں، جن پر اخراجات کی تفصیل کھل کر مجلس شوری کے ذریعہ جماعت کے سامنے آجاتی ہے۔جماعت احمدیہ میں کوئی راز نہیں ہے، یہ تو ایک کھلی کتاب کی طرح ہے۔اسی طرح ہماری زندگیاں بھی کھلی ہیں اور کوئی چھپانے والی چیز نہیں۔خدا کی راہ میں قربانی دے رہے ہیں، بشاشت - سے 518