تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 35

تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1974ء ہے۔اگر دوسرے سارے مذاہب نے مٹ جانا ہے اور اگر اسلام نے بھی غالب نہیں آنا تو پھر دنیا سے مذہب مٹ جائے گا اور اس کی جگہ دہریت آجائے گی۔جو لوگ اس وقت دہر یہ ہیں، وہ اسی زعم میں ہیں۔ان کا یہ خیال ہے کہ اب وہ دنیا پر غالب آجائیں گے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی بہت بڑی مادی اور فوجی طاقت ان کے ہاتھ میں ہے۔اور دنیا کی مجموعی دولت کا ایک بڑا حصہ ان کے پاس ہے۔اس لئے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کی وجہ سے اور اپنی دولت کے نتیجہ میں دنیا پر غالب آجائیں گے۔مگر ہم ، جو ایک کمزور جماعت کی طرف منسوب ہونے والے ہیں، ان کی باتوں کو سنتے اور ان کی جہالت پر مسکراتے ہیں۔کیونکہ ساری دنیا کی مادی طاقتیں اور مادی دولتیں مل کر بھی اللہ تعالیٰ کی طاقت کے مقابلہ میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی کھڑی نہیں ہو سکتیں۔غلبہ اسلام کا یہ منصوبہ ، جو صدیوں پر پھیلا ہوا نظر آتا ہے، یہ اتنا لمبا اس لئے نہیں تھا کہ اللہ تعالٰی ایک سیکنڈ میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اگر میں ساری دنیا کو دین واحد پر جمع کرنا چاہتا تو اس کے لئے میرا حکم دینا کافی تھا۔لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ بندوں کو ایک مخصوص دائرہ کے اندر آزاد چھوڑ دے اور ایسے سامان پیدا کرے کہ وہ رضا کارانہ طور پر دوڑتے ہوئے اس کی طرف آئیں اور محبت الہیہ کو حاصل کریں۔اور اس طرح وہ اس شلجم سے کہیں زیادہ اللہ کے مقرب بن جائیں ، جو ایک ترکاری ہے اور خدائی مشیت کے تحت خدا کی رحمت کو حاصل کرتی ہے۔ظاہر ہے، شام کے اندر جو غذائی خاصیتیں ہیں، ان کو اس نے اپنے زور سے حاصل نہیں کیا۔خدا نے کہا کہ شلجم کے اندر یہ یہ خاصیتیں پیدا ہو جائیں، وہ پیدا ہوگئیں۔اب اگر انسان کی بھی یہی حالت ہوتی ، اگر وہ بھی ایک سحن “ کے حکم پر جبراً مسلمان ہو جاتا ہے، یعنی جس طرح شلجم پر جبر ہے، خدا کی طاقت نے اس کو پکڑا اور کہا کہ تو میری معین کردہ حدود سے باہر نہیں جاسکتا یا مٹر ہے یا جانوروں میں سے مثلاً گھوڑا ہے یا بیل ہے یا اونٹ ہے یا سمندری جانور ہیں یا درخت ہیں، پھلدار اور دوسرے کام آنے والے یا سمندر ہیں، دریا ہیں یا فضا ہے، سورج ہے اور اس کی روشنی ہے، یہ سب قانون قدرت میں بندھے ہوئے ہیں۔لیکن اپنے اپنے دائرہ میں بندھے ہوئے ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حاصل کر رہے ہیں۔اگر حیمی و قیوم خدا ان پر اپنی رحمت کا سایہ نہ ڈالے رکھتا تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی ان کا زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا۔لیکن جو رحمت اس نے انسان کے لئے مقدر کر رکھی ہے، اس میں اور اس رحمت میں، جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے، زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ایک وہ رحمت ہے، جو خدا کی رضا کے حصول کے لئے انسان کی رضا کارانہ اور عظیم اور 35