تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 472
اعلان فرمودہ 04 جون 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ہم اس امر سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ عیسائیت بالعموم دوسرے مذاہب کے عقائد پر جارحانہ اور منفی نوعیت کے حملے کرتی رہی ہے۔اور زبان بھی ایسی استعمال کرتی رہی ہے، جو بہت قابل اعتراض ہوتی تھی۔لیکن ہم اس بات سے اتفاق نہیں کر سکتے کہ جماعت احمدیہ کا یہ عقیدہ یا اس عقیدہ کا اظہار یا اس اظہار کے لئے کسی کا نفرنس کا انعقاد کہ حضرت مسیح علیہ السلام خدا کے بزرگ رسول تھے۔اور ایسی باتیں ان کی طرف منسوب نہیں ہونی چاہئیں، جو ان کی رسالت اور بزرگی کے خلاف ہوں، یہ بھی مسیحی حملوں کی طرح ایک جارحانہ اور منفی حملہ ہے۔کمیٹی کا اس امر کو تسلیم کرنا کہ مسیح علیہ السلام کا صلیب پر مرنا، خدا تعالیٰ کی صفت عدل پر حرف گیری اور اس کی ہتک کے مترادف نظر آسکتا ہے۔اس کی طرف سے ایک خوش آئند اعلان کی حیثیت رکھتا ہے، ایک بہت امید افزاء اعلان ہے۔اس سے یہ امید بندھتی ہے کہ اگر عیسائی بھائیوں کو پیار کے ساتھ اور احسن طریق سے ان مسائل کی اصل حقیقت سے آگاہ کیا جائے تو وہ اپنے غلط عقائد کوترک کر کے اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ یہ عقیدہ رکھنا کہ حضرت مسیح صلیب پرلعنتی موت مرے اور اس معصوم اور بے گناہ کو دوسروں کے گناہوں کی سزاملی۔(May Seem) کی رو سے محض نظر آنے یا محسوس ہونے کی حد تک نہیں بلکہ صریحاً ایک بہتان ہے۔اور سچ سچ اور حقیقی طور پر خدا تعالیٰ کی صفت عدل کی ہتک کے مترادف ہے۔ہم خوش ہیں کہ برٹش کونسل آف چرچز نے اب جماعت احمدیہ کو با ہمی بات چیت اور تبادلہ خیال کی دعوت دی ہے اور یہ دعوت دی ہے کہ یہ تبادلہ خیال لندن میں یا کسی اور جگہ ہو سکتا ہے۔ہم اس دعوت کو قبول کرتے ہیں۔اور اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ تبادلہ خیال لندن میں اور لندن کے علاوہ دوسری جگہوں میں بھی ہو۔بہتر یہ ہے کہ یہ لندن، روم، مغربی افریقہ کے کسی ملک کے دارالحکومت، کسی ایشیائی ملک کے دارالحکومت اور امریکہ میں باہمی رضامندی سے مقررہ تاریخوں میں اور ایسی شرائط کے ساتھ ہو، جن کی تفصیل باہمی بات چیت کے ساتھ طے کی جائے۔ہم عقائد کے اختلاف پر رومن کیتھولک چرچ کے نمائندوں کے ساتھ بھی تبادلہ خیالات کے مواقع کا خیر مقدم کریں گے۔یہ تبادلہ خیال ان کے ساتھ علیحدہ طور پر بھی ہو سکتا ہے یا بشمول برٹش کونسل آف چرچز بیک وقت مجموعی طور پر تمام چرچز کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے“۔472 ( مطبوعه روزنامه افضل 24 جون 1978ء)