تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 467 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 467

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 05 مئی 1978ء آستانہ پر جھک کر، جتنا کہ انسان کبھی اس کے آستانہ پر جھکا ہو، عاجزانہ اور متفرعانہ دعاؤں کے ساتھ خدا تعالٰی کی مدد کے طالب ہوں اور اس کی مدد کو پائیں۔اللہ تعالیٰ ہم پر فضل کرے۔ہم اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اور ایک کوشش وہ کا نفرنس بھی ہے، جس کے متعلق میں نے پچھلے جمعہ میں بتایا تھا کہ وہ لندن میں ہو رہی ہے۔اس کا بڑا چرچا ہے۔اور عیسائیت کے بعض حصوں میں بڑا ہنگامہ ہے۔سورۃ کہف کے شروع میں ہے کہ ان لوگوں نے بغیر دلیل کے اور بغیر معقولیت کے خدا تعالی کا بیٹا بنالیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس مذہب کو دلائل کے ساتھ تو ڑا جائے گا اور نا کام کیا جائے گا۔لیکن وہ لمبا مضمون ہے اور بڑی پیشگوئیاں ہیں کہ کیا حالات پیدا ہوں گے؟ کس طرح یہ تو میں ترقی کریں گی ؟ اور کس طرح پکھلیں گی ؟ ( دعاؤں کے ساتھ ہی یہ پگھلیں گی۔اور کس طرح یہ مجبور ہو کر اپنے پیدا کرنے والے رب کی طرف واپس لوٹیں گی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اور آپ کے احسان کی معرفت حاصل کریں گی؟ اور پھر ساری دنیا ایک خاندان بن جائے گی۔بڑی پیشگوئیاں ہیں۔اور آج جب کہ دنیا کی ساری طاقتیں اور دنیا کے سارے اموال اور دنیا کی ساری کوششیں اور تدابیر ہمیں اسلام کو مٹانے پر بروئے کار نظر آتی ہیں، وہاں ہمیں خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی نظر آتا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام ساری دنیا میں غالب آئے گا۔اور خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ بھی کہا ہے کہ تم قربانیوں کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ اور عاجزانہ دعاؤں کے ذریعہ میری مدد اور نصرت حاصل کرنے کے بعد ہی دنیا میں یہ انقلابی تغیر پیدا کر سکو گے۔کہ وہ جن کی شکست ڈنڈے یا ایٹم بم کے ساتھ نہیں بلکہ دلائل کے ساتھ آج ناممکنات میں سے نظر آتی ہے، چودھویں صدی سے وہ زمانہ شروع ہو گیا ہے کہ جب یہ ممکن بن جائے گی۔اور وہ جو خواب میں بھی اپنی شکست کا تصور نہیں کر سکتے ، وہ دلائل کے ساتھ عملاً اپنی شکست تسلیم کر کے خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف واپس لوٹیں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔لیکن دعاؤں کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ ، دعاؤں کے ساتھ۔پس آپ بہت دعائیں کریں۔ہمارے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ سفر اور حضر میں میرا اور میرے رفقاء کا حافظ و ناصر ہو۔اور اللہ تعالیٰ آپ کا بھی ہر آن اور ہر لحظہ حافظ و ناصر ہو۔اور ہر شر سے آپ کو محفوظ رکھے اور ہر بیماری سے آپ کو بچائے اور ہر تکلیف اور دکھ آپ کا دور کرے اور آپ کو توفیق عطا کرے کہ آپ اپنے لئے بھی اور ہمارے لئے بھی مقبول دعا ئیں کرنے والے ہوں“۔(رجسٹر خطبات ناصر، غیر مطبوعہ ) 467