تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 442 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 442

ارشاد فرموده 03 اپریل 1977ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک جلد پنجم بیچارے کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔اس کو جامعہ میں کسی ابتدائی مرحلے پر فارغ کر دینا چاہتے تھے۔لیکن اس کی اپنی ذہنیت تو یہ تھی کہ اس نے سمجھا کہ ڈبل روٹی بنا کر بیچنا یا کلچے بنا کر بیچنا، یہ زیادہ اچھا کام ہے اور دنیا کی اتنی عظیم مہم ، جو اللہ تعالیٰ نے مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے قائم فرمائی ہے، اس کے اندر کام کرنے کی زیادہ اہمیت نہیں ہے۔پس جامعہ احمدیہ کی غرض جامعہ کے ماحول کے بغیر نہیں پوری ہوسکتی۔لیکن یہ سمجھنا کہ ہمیں جماعت کے علم میں زیادتی کے لئے اور وسعت پیدا کرنے کے لئے نہ کچھ سوچنے کی اور نہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے، یہ اپنی جگہ غلط ہے۔کچھ تو کرنا چاہئے۔یہاں ایک نیوکلیس Nucleus تو ضرور ہونا چاہئے کہ باہر سے جو خط و کتابت ہوتی ہے، اس کو ہم جو ضرورت پیدا ہوئی ہے، وہ بتا سکیں۔مثلاً میں نے انہی دنوں میں ذکر کیا تھا کہ ہمارے وارسا کے امام، جو پولینڈ میں احمدی ہوئے ہیں، ان کو قرآن کریم کا پولش زبان میں ترجمہ کرنے والی ایک کمیٹی حکومت نے بنائی، انہوں نے کہا کہ تم ہماری مدد کرو۔اب ان کا خط آیا ہے، مجھے جلد سے جلد قرآن کریم کے تراجم کے سلسلے میں یہ یہ چیزیں چاہئیں۔میں نے تحریک جدید کی طرف وہ خط بھجوایا تھا۔خدا کرے کہ ہم اگر ساری نہیں تو ایک حد تک ان کی راہنمائی کر سکیں۔اس قسم کی ضروریات دنیا میں پیدا ہو رہی ہیں۔ان کا حل ہونا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجھے زیادہ انگریزی نہیں آتی ، اگر روسی زبان میں کوئی لٹریچل جائے تو میں روسی بڑی اچھی جانتا ہوں ، میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں۔اب روسی زبان کا لٹریچر ہمارے پاس ہے ہی کوئی نہیں۔اسی طرح اٹلی میں، اٹلی کی تھو سزم کا گڑھ ہے، عیسائیوں میں کیتھولک تحریک کا مرکز ہے، وہاں پر بہت سی اس قسم کی کانفرنسز وغیرہ ہوتی رہتی ہیں، ان کی کتابیں چھپتی ہیں۔اٹالین زبان کے عالم ہمارے لئے بڑے ضروری ہیں۔کیونکہ بعض ایسی تبدیلیاں آرام کے ساتھ عیسائیت اس وقت کر رہی ہے، جو ان کی شکست کا اعلان ہے۔لیکن یہ سب کچھ ہمارے علم میں نہیں آرہا۔خصوصاً کیتھولک عیسائی جو ہیں، ان کے عقیدہ کی بنیاد کفارہ پر ہے۔کیونکہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کفارہ نہیں بنے تو اپنے متبعین کا گناہ اٹھا کر انہوں نے قربانی نہیں دی۔اور اس طرح سارا ڈھانچہ ہی زمین پر گر جاتا ہے۔اب پچھلے چند سال میں ایک نئی ریسرچ شراؤڈ ( Shroud) پر ہوئی۔یعنی کپڑے کی اس چادر پر، جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کو جب زخمی حالت میں صلیب سے اتارا گیا اور وہ بیہوش تھے تو سارے جسم پر مرہم لگا کر اس چادر میں لپیٹا گیا۔معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کافی چوٹیں آئی ہوئی تھیں۔غرض اس وقت 442