تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 416 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 416

اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اسی ضمن میں مزید فرمایا کہ تحریک جدید کے ذریعہ بیرونی ملکوں میں انقلابی تبدیلی رونما ہوئی ہے اور مسلسل ہورہی ہے۔یہ تبدیلی تعداد کے لحاظ سے بھی رونما ہوئی ہے اور اخلاص کے لحاظ سے بھی۔جہاں تک تعداد کے لحاظ سے تبدیلی کا تعلق ہے، غانا اور سیرالیون کے متعلق خود وہاں کے دوست دعوی کرتے ہیں کہ وہاں احمدیوں کی تعداد دس لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔یورپ میں بھی ، امریکہ میں بھی ، جزائر میں بھی اور افریقہ میں بھی ہر جگہ غلبہ اسلام کے لئے زمین تیار ہو رہی ہے۔بعض لوگ یورپ میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ابھی تک بہت تھوڑے لوگوں نے یہاں اسلام قبول کیا ہے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو ابتداء ہے۔ابھی سر گنے کا وقت نہیں آیا۔ابھی تو یہ دیکھو کہ تم میں سے جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے، ان میں کیا تبدیلی آئی ہے؟ وہ تبدیلی بذات خود ایک انقلاب سے کم نہیں ہے۔خدا کی شان ظاہر ہوتی ہے، اس بات سے کہ گوا بھی ڈنمارک میں چند آدمی ہی احمدی ہوئے ہیں، لیکن ان میں سے ایک وہ بھی ہوا ، جس نے عربی میں اتنی دسترس حاصل کی کہ چند سال کے اندراندر اس نے قرآن مجید کا اپنی زبان میں ترجمہ کر ڈالا۔اس ترجمہ کو وہیں کے ایک پبلیشر نے شائع کیا اور وہ ان بہت مقبول ہوا۔کیا یہ معمولی انقلاب ہے کہ ایک شخص احمدی ہوتا ہے اور اخلاص و فدائیت میں اتنی ترقی کرتا ہے کہ اپنے ہم وطنوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کی غرض سے ڈینیش زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کر ڈالتا ہے، اسے شائع کراتا ہے۔اور پھر اس ترجمہ کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح جرمنی میں ڈاکٹر عبدالہادی کیوسی صاحب نے اسلام قبول کیا۔احمدی ہونے کے بعد ان کے دل میں ایسا تغیر ہوا کہ انہوں نے اسپرانٹو زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔اسے بھی وہیں کے ایک پبلیشر نے شائع کیا اور یہ ترجمہ بھی بہت مقبول ہوا۔اگر کوئی کہے کہ ڈنمارک میں تم نے صرف چند آدمی ہی احمدی بنائے ہیں تو میں کہوں گا کہ ان چند میں ایک ایسا بھی تو آ گیا کہ جس نے قرآن مجید کا ڈینش زبان میں ترجمہ کر دکھایا۔اس ابتدائی حالت میں وہ اکیلا ہی احمدی ہوتا تو وہ اکیلا ہی کافی ہوتا۔کیونکہ اس اکیلے شخص نے اپنے ہم وطنوں کے لئے قبول اسلام کی راہ ہموار کر کے دکھائی۔الغرض وہاں جو انقلاب آیا ہے، وہ کوئی معمولی انقلاب نہیں۔تعداد اور اخلاص ہر دو لحاظ سے بہت بڑا انقلاب ہے، جو وہاں آیا ہے۔416