تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 411
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده 26 دسمبر 1977ء سے عیسائیت کے خلاف اس وقت تک بیسیوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔یہ کتابیں عیسائیت کے بنیادی عقائد کے خلاف ہیں۔یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے خلاف ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا لینے کے خلاف ہیں۔بہت سے عیسائی سکالرز نے اپنی تحقیق کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام، جو خدا تعالیٰ کے ایک پیارے رسول تھے اور جن کی ہمارے دلوں میں اسی طرح عزت اور احترام ہے، جس طرح دوسرے رسولوں کی ہے، وہ خدا تعالیٰ کے ایک بندے تھے ، خدا نہیں تھے۔اور یہ بھی کہ وہ صلیب پر سے زندہ اترے تھے۔اور ان کا جو مشن تھا، جس کے پورا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ان کو معبوث کیا تھا ، یعنی یہ کہ وہ یہود کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کو اکٹھا کریں، اس مقصد کے حصول کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی لمبی زندگی عطا کی۔کیونکہ بنی اسرائیل (یہود ) کی جو کھوئی ہوئی بھیڑیں تھی ، وہ یروشلم سے لے کر افغانستان، ہندوستان اور کشمیر کی پہاڑیوں کے بہت وسیع علاقے میں پھلی ہوئی تھیں۔ان تک پیغام حق پہنچانے کے لئے انہوں نے بڑے لمبے لمبے سفر کیسے ہیں۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کا رسول جس غرض کے لئے بھیجا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک وفات نہیں دیتا، جب تک اس غرض کی بنیاد کو پختہ نہ کر دے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو صلیب سے بچا کر دنیا کو اپنی قدرت کا نشان دکھایا۔اور ان کو موقع دیا کہ وہ اپنے مشن کی تکمیل کریں۔یعنی یہود کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کو اکٹھا کریں۔اور یہ صرف ہمارا ہی عقیدہ نہیں بلکہ بڑے بڑے پادریوں نے بھی تحقیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر سے زندہ اترے اور وہ ہجرت کر کے کشمیر اور دوسری جگہوں میں بھی گئے ، جہاں وہ یوز آسف کے نام سے پکارے گئے۔پس یہ ایک عظیم اور بڑا حیران کن انقلاب ہے، جو عیسائیت کے بنیادی خیالات میں پیدا ہو گیا ہے۔اس میں میری یا آپ کی کوشش کا ہاتھ نہیں ہے۔بلکہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوفر مایا تھا کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے، جو تیری تائید میں ساری دنیا میں کام کر رہے ہوں گے، ویسا ہی ثابت کر دکھایا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔مطبوعه روزنامه الفضل مورخہ 18 جون 1978ء) 411