تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 392
خطاب فرمودہ 04 نومبر 1977ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اور یہ انقلاب اب آہستہ آہستہ نظر آنے لگ گیا ہے۔جب ان لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تعلیم تو بڑی اچھی ہے، لیکن اور لیکن کے آگے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ جس زندگی میں ہم پھنس گئے ہیں اور گندی عادتیں پڑگئی ہیں، عیش و عشرت میں ہم پڑے ہوئے ہیں، اس زندگی کو چھوڑنے کے لئے ہم تیار نہیں تعلیم کے حسن اور خوبی کا اقرار تو بہت سے کر لیتے ہیں، لیکن عملاً اس کو قبول کر کے، اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال کر، اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو صحیح طور پر نشو و نما دے کر اس انقلاب عظیم کو پیدا کرنے کی مہم کا ایک حصہ بن جانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔جو ہر لحاظ سے ایک حقیقی انقلاب ہے۔پس یہ ہے ایک احمدی کا مقام۔اور اس کو سمجھنے کے لئے اور اس کو یا در کھنے کے لئے پہلی اور آخری ضروری چیز یہ ہے کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو کثرت سے پڑھا کریں۔کیونکہ انہوں نے ہی ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔ہمیں یہ بتانے والا کون ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے اور وہ انقلاب عظیم، جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے شروع ہوا تھا ، وہ اس زمانہ میں اپنے عروج کو پہنچنے والا ہے اور نوع انسان امت واحدہ اور ایک خاندان بننے والی ہے؟ ہمیں یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے۔اور کسی نے نہیں بتایا۔اور پھر اس مقصد کے حصول کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی علمی لحاظ سے یا اخلاقی لحاظ سے یا روحانی لحاظ سے یا مجاہدہ کے لحاظ سے یا ایثار کے لحاظ سے یا قربانی کے لحاظ سے، اس کا علم بھی ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ بھی لکھایا کہا ہے، وہ قرآن عظیم کی تفسیر ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی شرح ہے۔اس لئے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل ہدایت ہے۔اور دنیا میں کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا اور نہ جن سکتی ہے کہ جو دنیا میں آکر یہ اعلان کرے کہ میں قرآن کریم سے یہ چیز زائد تمہیں بتارہا ہوں، جو قرآن کریم نے نہیں بتائی تھی اور تمہارے لئے ضروری ہے۔یا یہ چیز اس میں سے نکال رہا ہوں، اس کی اب ضرورت نہیں رہی۔قرآن کریم میں ہے اور پہلے وقتوں میں اس کی ضرورت ہوگی لیکن اب اس کی ضرورت نہیں۔قرآن کریم میں کوئی ناسخ اور منسوخ نہیں۔کوئی آیت قرآن کریم کی منسوخ نہیں۔کوئی لفظ قرآن کریم کا منسوخ نہیں۔کوئی حرف قرآن کریم کا منسوخ نہیں۔کوئی زیر زبر اور پیش اور کوئی نقطہ قرآن کریم کا منسوخ نہیں۔یہ تعلیم ہے، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں دی ہے۔آج کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ، آج کی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لئے اور یہ انقلاب عظیم جو اپنے عروج کی طرف حرکت میں آگیا ہے، اس حرکت کا ایک حصہ بنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا پڑھنا ضروری ہے۔392