تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 391
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِى خطاب فرمودہ 04 نومبر 1977ء (البقرة: 151) دنیا کی کسی چیز کا ڈر تیرے دل میں پیدا نہ ہو۔بلکہ میری خشیت پیدا ہو۔اور ہر وقت تمہیں یہ خوف رہے کہ تمہاری کسی غلطی کے نتیجہ میں کہیں میں تم سے ناراض نہ ہو جاؤں۔اگر یہ احساس دل میں پیدا ہو جائے۔اگر اس احساس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ ہم سے جو تقاضا کرتا ہے، وہ ہم پورا کرنے لگ جائیں۔اگر اس احساس کے نتیجہ میں ہم بنی نوع انسان کے خیر خواہ بن جائیں۔اگر ہم راتوں کو اٹھ کر ان لوگوں کے لئے دعائیں کریں، جو ہمارا نام بھی حقارت سے لیتے ہیں تو ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے ہوں گے۔روس میں بسنے والے یا امریکہ میں رہائش پذیر ہمیں حقارت سے دیکھتے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔لیکن وہ نادان ہیں۔ان کو پتہ نہیں کہ جو کچھ انہوں نے حاصل کیا ، وہ کچھ چیز نہیں۔اور جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ اس کے مقابلہ میں ایک عظیم چیز ہے۔لیکن ان کو بتانا، ان کو سمجھانا، حسن اور احسان کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتنا، یہ میرا اور آپ کا کام ہے۔اور ہر آنے والی نسل کا کام ہے۔ہم نے کچھ اندازے لگائے۔میرا اندازہ ہے کہ آنے والی صدی، جس میں کہ اب گیارہ، بارہ سال رہ گئے ہیں، غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اس انگلی صدی میں یعنی جماعت احمدیہ کے قیام کی دوسری صدی میں، دنیا میں ایسے انقلابی حالات پیدا ہو جائیں گے کہ اب جو دنیا کہتی ہے کہ یہ کیا پاگلوں والی باتیں کرتے ہیں؟ ایک اتنی سی جماعت ہے، غریب جماعت ، دھتکاری ہوئی جماعت، جو بر سر اقتدار نہیں ہے، ساری دنیا کی طاقتیں اس کے خلاف ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ساری دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول کے لیے جیت لینے ہیں، اس دنیا کا ایک حصہ سمجھنے لگے گا کہ جو کچھ کہا گیا، اس میں صداقت معلوم ہوتی ہے۔اور ایک حصہ تو اسلام کی گود میں آجائے گا اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گا۔پس اگلی صدی ، غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اور اس سے پہلے پہلے تیاری کا زمانہ ہے۔صدی کے آنے میں جو گیارہ، بارہ سال رہ گئے ہیں، ان میں ہمیں سب سے زیادہ تو دعاؤں کے ساتھ تیاری کرنی چاہیے۔دعا اس انسان کے لئے بھی کہ جو آپ کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔دعا اس انسان کے لئے بھی کہ جو آپ کی باتوں کو ، جو خدا نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل آپ کو بتا ئیں سنتا ہے اور آپ کو پاگل سمجھتا ہے۔اور دعا اس انسان کے لئے بھی کہ جو اپنی گندی زیست میں اس طرح پھنسا ہوا ہے کہ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔391