تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 368
اقتباس از درس بیان فرموده 14 ستمبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ایک دفعہ ایک شخص نے کہا کہ کسی جگہ ایک غیر احمدی کا جنازہ تھا اور سوائے احمدیوں کے اور کوئی نماز پڑھنے والا نہیں تھا۔کہنے لگا، اس کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟ بعد میں وہ احمدی ہو گیا۔میں نے اس کو یہ جواب دیا کہ ہمارے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر پیار پیدا کیا ہے کہ ہم کسی ایسے شخص کو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منسوب ہونے والا ہے، لا وارث نہیں دیکھ سکتے۔اس واسطے ایسے وقت میں احمدی کا فرض ہے کہ وہ اس کا جنازہ پڑھے۔یہ نہیں ہے کہ لوگ ہنسی ٹھٹھا کریں کہ مسلمان کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں اور اس کا جنازہ اٹھانے والا کوئی نہیں۔جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منسوب ہونے والا ہے، وہ بے کس اور بے سہارا نہیں ہے۔غرض بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ جہاں مسلمان موجود ہیں، لیکن وہ زبان سے اظہار بھی نہیں کر سکتے اور ان میں سے کچھ نئی نسلیں اسلام کو بھول بھی گئیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر فضل کرے اور ان کو اپنی رحمتوں سے نوازے۔پھر ہمارے بچے ہیں، آئندہ آنے والی نسلیں ہیں، ان کے لئے دعائیں کریں۔کیونکہ کام صرف ہم تک ہی محدود نہیں۔پتہ نہیں ہزار سال میں کتنی نسلیں آتی ہیں۔ابھی تو 87-86 سال گزرے ہیں اور باقی 14-913 سال باقی ہیں، اس جدوجہد کے۔اور نوع انسانی کو چوٹی تک لے کر جانا ہے۔پھر وہاں قائم رکھنے کے لئے بھی جد و جہد کرنی پڑے گی۔یہ نہیں کہ وہاں پہنچ گئے اور کام ختم ہو گیا۔تنزل شروع ہی وہاں سے ہوتا ہے، جب آدمی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اب کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔جہاں تک میں نے پہنچنا تھا، پہنچ گیا۔تب اس کا اگلا قدم تنزل کی طرف ہے۔لیکن اگر انسان کا دماغ اس حقیقت کو پہچاننے والا ہو کہ چوٹی تک پہنچنے کے بعد چوٹی پر کھڑا رہنے کے لئے بھی ایک جہاد کی ضرورت ہے تو پھر منزل نہیں آیا کرتا۔ہمیں جو وعدہ دیا گیا ہے، ہمارے سامنے اللہ تعالیٰ نے جو منصوبہ رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ نوع انسانی کو چوٹی تک پہنچا کر پھر ایک ہزار سال تک اسے اس مقام پر کھڑے رکھنا ہے، جو کہ ہمارے آدم کی باقی عمر رہ گئی ہے۔اس لئے ان نسلوں کے لئے دعائیں کریں۔( مطبوعه روزنامه الفضل یکم نومبر 1977 ء ) 368