تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 21
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1974ء کے ہاتھ کا ایک زبر دست جلوہ ظاہر کرے۔یہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں تک ہماری طاقت ہے یا جہاں تک ان وسائل کا تعلق ہے، جن سے ہم اپنی طاقت کو بڑھا سکتے ہیں ، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس طاقت کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوں اور اس کوشش میں لگے رہیں کہ جو طاقت اور قوت کو بڑھانے کے وسائل اور راہیں ہیں، وہ ہمیں میسر آئیں۔اللہ تعالیٰ نے اس آیہ کریمہ میں، جس کی میں نے سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کی ہے، یہ حکم فرمایا ہے کہ اگر تم استغفار کرو اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو تمہاری خوشحالی کے سامان آسمانوں سے پیدا کئے جائیں گے۔اور اللہ تعالیٰ اگر تمہاری زندگیاں اس کی رضا کے حصول کے لئے لگی ہوئی ہوں گی تو تمہیں قوت کے بعد مزید قوت عطا کرتا چلا جائے گا۔اس وقت جیسا کہ میں نے بتایا، دشمن انسانیت اور دشمن روحانیت اور دشمن مذہب کے خلاف ہماری جو جد و جہد اور لڑائی ہے، اس کے لئے ہمیں دشمن کے مادی وسائل کے اثر کو کالعدم کرنے کے لئے ایسی روحانی طاقت کی ضرورت ہے، جو خدا سے حاصل ہوتی ہے۔اور جس کے حصول کا ایک ذریعہ اس آیت میں استغفار اور تو بہ بتایا گیا ہے۔اور جس کے نتیجہ میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ برکتوں کے سامان پھر آسمان سے پیدا ہوں گے اور قوت کے بعد مزید قوت عطا ہوتی چلی جائے گی ، ان وسائل سے۔خدا تعالیٰ ہر قدرت کا اور قوت کا اور طاقت کا اور عزت کا اور غلبہ کا اور قہر کا سر چشمہ ہے۔اس سے قوت لے کر ہمیں اس میدان میں دشمن اسلام، دشمن روحانیت، دشمن مذہب اور اللہ تعالیٰ کے خلاف صف آراء ہونے والی فوجوں کا مقابلہ کرنا ہے۔اور کامیابی کے ساتھ کرنا ہے۔اس وقت جیسا کہ میں نے بتایا، ایک خلا پیدا ہورہا ہے اور جلدی جلدی بڑھ رہا ہے۔اس کے لئے تدبیر جتنی ہم کر سکتے ہیں، وہ ہمیں کرنی چاہئے۔اس کے لئے ہمیں اس سے زیادہ مجاہد چاہیں ، اس سے زیادہ مبشر چاہئیں، اس سے زیادہ مبلغ چاہئیں، جتنے کہ مبلغ بنانے والے ہمارے ادارے اس وقت بنا رہے ہیں۔اعلی پیمانہ پر مبلغ بنانے والا ادارہ تو جامعہ احمدیہ ہے۔دوسرے بھی بعض ادارے ہیں لیکن وہ اس معیار کے مبشر پیدا نہیں کر سکتے۔نہ ان کے قیام کا یہ مقصد ہے کہ جو غیر ممالک جا کر اسلام کے جرنیل کی حیثیت میں ان طاقتوں کا مقابلہ کریں۔اگر ہم صرف جامعہ احمدیہ پر انحصار کریں تو جس قدر انسانوں کی مخلص انسانوں کی ، مومن انسانوں کی، صاحب فراست انسانوں کی، اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والے انسانوں کی ، خدا سے اخلاص کا تعلق رکھنے والے انسانوں کی ، خدا سے عہد وفا ، جو انہوں نے باندھا ہے، اس پر عزم کے ساتھ اور استقامت کے ساتھ قائم اور قائم رہنے والے انسانوں کی ضرورت ہے، اتنے انسان تو یہ ادارہ ہمیں شاید اگلے سو سال میں بھی نہ دے سکے لیکن ہمیں آج ضرورت ہے۔21