تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 359
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ایک احمدی کی زندگی کا نمایاں امتیاز ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1976ء ارشادات فرمودہ 28 مارچ 1976ء بر موقع مجلس شوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا نام سننے کے لئے اور اسلام کی تعلیم سننے کے لئے ، نیکی کی باتیں سننے کے لئے اور اصلاح نفس کے سامان پیدا کرنے کے لئے جلسہ سالانہ پر جتنی تعداد میں بھی لوگ آئیں ، ان کا خیال رکھا جائے اور عزت اور احترام کے ساتھ ان کو کھانا دیا جائے۔یہ ہے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، جس کو زندہ کیا ہے، محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے عظیم روحانی فرزند مہدی معہود علیہ السلام نے۔تو اس وقت دنیا میں جماعت پھیل گئی، ساری دنیا میں قریباً میں پھیل گئی۔کہیں ہمارے با قاعدہ مشن ہیں۔ہماری جماعت عام طور پر غلط معنی میں مشن کا لفظ استعمال کرتی ہے۔جماعت احمدیہ کے مشن کا یہ مطلب نہیں کہ جامعہ احمدیہ کا ایک طالب علم وہاں بطور مبلغ کے کام کر رہا ہے۔جماعت احمدیہ کا ہر اس جگہ مشن ہے، جہاں کوئی احمدی پایا جاتا ہے۔کیونکہ وہ خود مبلغ ہے۔اور وہ نمونہ بنتا ہے، دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے کا۔وہ کتابیں پڑھاتا ہے، وہ باتیں کرتا ہے۔اس کی زندگی میں ایک تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔کنی جگہ سے آجاتی ہے اطلاع کہ ہو تو تم بڑے اچھے، لیکن تم میں یہ نقص ہے کہ تم احمدی ہو۔کئی لوگ کہہ دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ اگر احمدی نہ ہوتا تو تمہیں یہ کہنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی کہ ہو تو تم اچھے۔پھر تو اوروں کی طرح ، سب کی طرح ہوتا۔نمایاں امتیاز ہے ایک احمدی میں اور غیر احمدی میں۔اور وہ امتیاز یہی ہے کہ ایک احمدی اپنی زندگی کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے“۔امریکہ بڑا تیز ہورہا ہے ، ماشاء اللہ۔خدا کرے، ان کی تعداد بھی بڑھ جائے۔پانچ سال میں پانچ لاکھ پیدا کرو، انشاء اللہ کوشش کرو۔باقی تو اللہ دینے والا ہے۔اب یہ نائیجیر یا والوں نے گنتی میں نے تو نہیں کی لیکن ان کے پچھلے جلسے میں، جس کا انہوں نے خود اعلان کیا، نائیجیریا کے سالانہ جلسے میں ایک ملین احمدی شامل تھا۔اور یہ بڑی تھوڑی تعداد ہے، اس ملک کے لحاظ سے۔لیکن بہر حال ایک ملین کافی تعداد ہے۔دس لاکھ کی آواز میں اپنے ملک میں بھی بڑا وزن ہے۔اور پھر علم کے لحاظ سے ان کی فیصد دوسروں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے۔صرف دوسرے مسلمانوں کی نسبت سے نہیں بلکہ عیسائی، جو تعلیم 359