تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 351

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 26 مارچ 1976ء دیر کی بات ہے۔میں ان دنوں تعلیم الاسلام کالج میں پرنسپل تھا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالی عنہ نے بعض لوگوں کو ان کی ناقابل معافی حرکات کی وجہ سے جماعت سے نکالا تھا۔کیٹری افغاناں قادیان کے قریب دریائے بیاس پر ایک گاؤں تھا۔اس کے کئی خاندانوں سے میری ذاتی واقفیت تھی۔وہ لوگ واقفیت اور تعلق رکھتے تھے۔ان میں سے ایک شخص ملنے کے لئے آیا کرتا تھا۔ان دنوں بھی ملنے آگیا۔خیر میں نے اس کو مہمان رکھا۔پہلے دن شام کے وقت تو اس نے کوئی بات نہیں کی۔اگلے دن صبح ہم باہر ٹہلتے ہوئے کالج کے پرنسپل لاج کے لان میں باتیں کر رہے تھے تو وہ مجھے کہنے لگا کہ یہ کیا قصہ ہے، اتنی بڑی ہستیوں کی اولا د نے بھی غداری کی اور ان کو بھی نکالا گیا ہے؟ جب اس نے یہ بات کی تو میں وہیں کھڑا ہو گیا اور جو قریب ترین درخت تھا، میں اس کو اس کے پاس لے گیا۔وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ اس کی کچھ ٹہنیاں خشک تھیں۔ہر درخت کی کچھ ٹہنیاں خشک ہوتی ہیں۔میں نے اس کو کہا کہ اس درخت کی یہ ٹہنیاں، جو تمہیں خشک نظر آ رہی ہیں، کیا یہ خشک ٹہنیاں ہمیں یہ بتارہی ہیں کہ درخت مر چکا ہے یا یہ بتارہی ہیں کہ درخت زندہ ہے؟ وہ بڑا ہوشیار آدمی تھا۔کہنے لگا کہ میرے سوال کا جواب آگیا ہے۔میں سمجھ گیا ہوں کہ کیا مسئلہ ہے؟ پس یہ تو ہوتا رہتا ہے۔لیکن جس بات کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے ، وہ یہ ہے کہ جتنے اور جس قسم کی اہلیت کے نوجوان اور تجربہ کار خدام اسلام کی ہمیں ضرورت ہے، وہ مل رہے ہیں یا نہیں مل رہے؟ اگر نہیں مل رہے تو وہ ہمیں ملنے چاہئیں۔جب کام نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے یا کام کے کچھ حصے نمایاں ہو کر سامنے آتے ہیں تو پھر حسد بھی پیدا ہوتا ہے۔سو وہ بھی پیدا ہوا۔اب جن چھ ملکوں کا میں نے 70ء میں دورہ کیا تھا اور اس وقت وہاں کچھ وعدے کئے تھے۔اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا، وہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور سچی بات یہ ہے کہ میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اتنی جلدی اللہ تعالی سامان پیدا کر دے گا۔اور تھوڑے عرصہ میں 16 با قاعدہ کوالیفائڈ (Qualified) اور تربیت یافتہ ڈاکٹر ، فزیشن اور سرجن ہمیں مل جائیں گے۔اور میں نے سات سال میں جو وعدہ پورا کرنا تھا، وہ ڈیڑھ سال کے اندر پورا ہو جائے گا۔خدا نے بڑا فضل فرمایا۔غانا میں ایک امریکن ، وہاں کے قبائل کی عادات وغیرہ پر ریسرچ کر رہا تھا اور ممکن ہے کہ ان کا C۔T۔D کا بھی کام کر رہاہو۔واللہ اعلم۔بہر حال وہ ایک موقع پر ہمارے جلسہ میں شامل تھا۔وہاں میں نے یہ اعلان کیا کہ اس طرح ہم یہ غور کر رہے ہیں۔پھر سیرالیون میں اس منصوبہ کی تفصیل آگئی اور اسی وقت غانا کے لوگوں کو بھی اطلاع ہوگئی۔ڈیڑھ سال کے بعد وہ شخص چھٹی لے کر ادھر 351