تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 339 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 339

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1976ء چندوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔فرض تو اسی صورت میں ادا ہو سکتا ہے کہ سب دوست شرح کے مطابق با قاعدگی سے چندہ ادا کریں۔اگر کسی مجبوری کی بنا پر کوئی دوست شرح کے مطابق چندہ ادانہ کر سکتے ہوں تو شرح از خود کم کرنے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔ایسے دوستوں کو چاہئے کہ وہ انفرادی طور پر خلیفہ وقت سے درخواست کر کے شرح میں کمی کی اجازت لیں۔جہاں تک شرح میں کمی کا سوال ہے، یہ امر یا درکھنا چاہیے، وصیت کے چندہ میں کمی کرنے یا اس کے بقائے معاف کرنے کا خلیفہ وقت کو بھی اختیار نہیں ہے۔باقی چندوں کے بارے میں خلیفہ وقت کسی شخص کی درخواست پر اس کی مجبوریوں کے پیش نظر شرح میں کمی بھی کر سکتا ہے اور بقائے معاف بھی کر سکتا ہے۔بہر حال کوشش کریں کہ تمام دوست با قاعدگی سے با شرح چندہ ادا کریں۔اور اگر کوئی دوست با شرح ادانہ کر سکتے ہوں تو وہ از خود شرح میں کمی نہ کریں بلکہ اس کی خلیفہ وقت سے اجازت حاصل کریں۔اگر آپ اس پر کما حقہ عمل کریں گے تو آپ کے لئے مشن ہاؤس اور مسجد تعمیر کرنا قطعا مشکل نہ ہوگا۔اور آپ تربیتی اور تبلیغی سرگرمیوں میں بآسانی وسعت پیدا کر سکیں گے“۔آخر میں حضور نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میں پانچ سال امریکہ میں رہ کر آیا ہوں اور اب روس جاؤں گا۔یہ خواب ایک رنگ میں میرے ذریعہ پوری ہوئی ہے۔کیونکہ خلفاء سلسلہ احمدیہ میں سے میں ہی پہلا خلیفہ ہوں، جسے خدا تعالیٰ نے امریکہ اور کینیڈا کا دورہ کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔یہ خواب بتا رہی ہے کہ آئندہ پانچ سال شمالی امریکہ میں رہنے والے احمدیوں کے لئے خاص اہمیت کے حامل ہیں۔اور ان پانچ سالوں میں ان پر بہت اہم ذمہ داریاں عائد ہونے والی ہیں۔آپ اسی طرح قربانیاں کرنے اور ذمہ داریاں نباہنے کے لئے تیار ہو جائیں ، جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اور ان کے معابعد آنے والوں نے اسلام کی سر بلندی کے لئے قربانیاں دی تھیں اور ذمہ داریاں نبھائی تھیں۔انہیں تو جنگیں لڑنی اور اپنی جانیں نچھاور کرنی پڑی تھیں۔لیکن ہمیں محبت اور پیار سے دوسروں کے دل جیتنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ہر قسم کی جانی اور مالی قربانیاں پیش کر کے اور ہر قسم کے دکھ اور تکالیف برداشت کر کے اپنی اس ذمہ داری کو کمال مستعدی سے نبھاتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه روز نامه الفضل 13 اکتوبر 1976ء) 339