تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 338
ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1976ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم موجودہ مرحلہ میں ہم کومسجد کی تعمیر پر زیادہ رقم خرچ نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ افادیت کو مد نظر رکھ کر ایسی مسجد تعمیر کرنی چاہیے، جس سے ضرورت پوری ہو سکے۔اس وقت زیادہ اہمیت اس امر کو حاصل ہے کہ ہم یہاں احمدیوں کو مغربی ماحول کے برے اثرات سے بچانے اور نئی پود کی خالص اسلامی ماحول میں تربیت کرنے پر زور دیں۔اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ فوری طور پر آپ شہر سے تیں ، چالیس میل باہر ہیں ، ہمیں ایکٹر زمین حاصل کریں۔شہر سے باہر آپ کو زمین ستی اور آسان قسطوں پر مل جائے گی اور وہاں آپ کیمونٹی سنٹر بنا ئیں۔اس میں آپ تعطیلات کے دوران دینی تربیت کے کورس جاری کریں۔ان میں بچے اور نو جوان شریک ہوں۔اس طرح بچوں اور نو جوانوں کو دین سیکھنے اور انہیں اسلامی آداب کا پابند بنانے میں بہت مدد ملے گی۔اس کے علاوہ شہر میں ایک کمرہ کرایہ پر حاصل کر کے اسے نمازوں کا مرکز بنا ئیں اور وہاں با جماعت نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں۔ساتھ کے ساتھ شہر میں یا شہر کے قریب مسجد کے لئے زمین خریدنے کی کوشش بھی جاری رکھیں۔جب زمین مل جائے تو اس پر افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حسب ضرورت مسجد تعمیر ہو سکتی ہے۔جہاں تک اس کے لئے قربانی اور ایثار سے کام لینے کی ضرورت ہے، آپ لوگ انگلستان کی جماعت سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔گوٹن برگ میں جو مسجد تعمیر ہوئی ہے اور جس کا انشاء اللہ تعالیٰ میں 20 اگست کو افتتاح کروں گا، اس کے اخراجات میں سے 75 ہزار پاؤنڈ انگلستان کی جماعت نے اپنے صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ میں سے مہیا کئے ہیں۔ایک سال کے اندر اندر یہ رقم ادا کرنے کے بعد انگلستان کی جماعت اب اوسلو میں بھی مسجد تعمیر کرنے کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہوگئی ہے۔اس مرحلہ پر ایک دوست نے عرض کیا کہ آج کل چرچ کی خالی عمارتیں فروخت ہورہی ہیں اور سستے داموں مل جاتی ہیں، اگر ہم بھی ایسی کوئی عمارت خرید لیں تو اسے با آسانی مسجد میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔اس پر حضور نے فرمایا:۔نہیں، ہرگز نہیں۔ہم اپنی مسجدیں آپ بنا ئیں گے۔ہم یہ الزام نہیں لینا چاہتے کہ ہم نے عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو مساجد میں تبدیل کر دیا ہے۔چندوں کی با شرح اور با قاعدہ ادا ئیگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا:۔اگر یہاں کے دوست پوری شرح کے مطابق با قاعدہ چندے ادا کرنا شروع کر دیں اور آپ لوگ ان سے وصولی کے نظام میں با قاعدگی پیدا کر لیں تو آپ ایک نہیں کئی مساجد تعمیر کر سکتے ہیں۔ہر شخص کو شرح کے مطابق چندہ ادا کرنا چاہیے۔یہ درست نہیں ہے کہ لوگ تھوڑی بہت رقم ادا کر کے یہ سمجھ لیں کے 338