تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 335
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1976ء سال کا عرصہ قوموں کی تاریخ میں کوئی زیادہ لمبا عرصہ نہیں ہوتا۔اسلام جو انقلاب لانا چاہتا ہے، وہ کوئی خارجی چیز نہیں ہے۔بلکہ وہ انسانی فطرت میں پوشیدہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے، فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا اسلام میں کوئی تعلیم ایسی نہیں، جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔اس لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو اسلام کا بہر حال غالب آنا یقینی ہے“۔اس امر کو واضح کرتے ہوئے کہ ہم یہ انقلاب کس طرح لائیں گے؟ حضور نے فرمایا:۔ہم تشدد سے نہیں بلکہ محبت سے، پیار سے اور بے لوث خدمت سے لوگوں کے دل جیتیں گے اور اس طرح ان کے دل اسلام کی طرف مائل کریں گے۔محبت، پیار اور بے لوث خدمت میں خدا نے بڑی کشش رکھی ہے۔مزید فرمایا:۔”میرے دل میں کسی کے خلاف کوئی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف حقارت کے جذبات ہیں۔میں باطل نظریات اور باطل عقائد کا مخالف ضرور ہوں۔لیکن نوع انسان کا ہمدرداور بہی خواہ ہوں۔اور ہمدردی کے جذبہ کے تحت محبت و پیار اور بے لوث خدمت کے ذریعہ ان کے دل اسلام کے لئے جیتنا چاہتا ہوں۔یہی وجہ ہے کہ جب 1970ء میں، میں مغربی افریقہ کے بعض ممالک میں گیا اور میں نے وہاں محسوس کیا کہ یہاں کے لوگوں کو ہماری خدمت کی ضرورت ہے تو میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں ان کے ہاں سولہ ہسپتال اور اتنی ہی تعداد میں ہائر سیکنڈری سکول کھولنے کی کوشش کروں گا۔خدا تعالیٰ نے مجھے دو سال کے اندر اندر یہ وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرما دی۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے پانچ ہسپتال گیمبیا میں، چار سیرالیون میں، چار گھانا میں، ایک لائبیریا میں اور تین نائیجیریا میں کامیابی سے چل رہے ہیں اور دن بدن ان کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ایک نامہ نگار نے دریافت کیا کہ آپ کی جماعت گزشتہ پچاس سال سے تبلیغ کر رہی ہے، ان پچاس سال کے اندر کیا انقلاب آیا؟ حضور نے فرمایا:۔مذہب کا تعلق دل سے ہے۔دل کو جبر سے نہیں بدلا جاسکتا۔جب میں کہتا ہوں کہ روئے زمین کے تمام انسان اسلام قبول کر لیں گے ، اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ سب کو بالجبر مسلمان بنا لیا جائے 335