تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 295
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو غیر معمولی قربانی کرنے والی جماعت عطا کی خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔”ہمارا رب اللہ اس قدر عظمت، کبریائی اور جلال والا ہے کہ انسانی ذہن اس کی عظمت و کبریائی اور جلالت شان کا تصور نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی غیر محدود صفات اور قدرتوں میں سے بعض صفات کا ذکر فرمایا ہے۔جن سے ہمیں اس کی عظمت ، اس کے جلال اور اس کی کبریائی کا کسی قدرا ندازہ ہوتا ہے۔ان میں سے اس کی دوصفات ، اس کا الحی اور القیوم ہونا ہے۔الحی کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی ذات میں ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔پھر یہی نہیں کہ وہ خود زندہ ہے بلکہ ہر ذرہ کائنات اور ہر ذی روح میں جو زندگی نظر آتی ہے، وہ اسی کی عطا کردہ ہے۔وہ خود ہی زندہ نہیں بلکہ ہر ذی روح کی زندگی کا موجب اور علت العلل بھی ہے۔پھر وہ القیوم ہونے کی وجہ سے خود اپنی ذات میں ہی قائم نہیں ہے بلکہ ہر چیز ، جو اس کی اپنی پیدا کر دہ اور مخلوق ہے، اس کے قیام کا بھی وہی موجب ہے۔اگر اس کائنات اور اس کے ہر ذرہ کا الحی اور القیوم کے ساتھ تعلق نہ رہے، یا حی وقیوم خدا ایک لحظہ کے لئے اپنا سہارا ہٹا لے تو پوری کائنات پر فوراً ہی فنا وارد ہو جائے۔اور کوئی چیز بھی باقی نہ رہے۔ایسے حسی و قیوم اور ہمہ قدرت، طاقت کے ساتھ زندہ تعلق کا ہونا ، از بس ضروری ہے۔اس کے بغیر انسان روحانی طور پر زندہ رہ ہی نہیں سکتا۔زندہ تعلق خدا کے ساتھ اس وقت قائم ہوتا ہے، جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جائے۔اور اس کی روح رضيت بالله ربًّا پکار اٹھے لیکن ایک خا کی انسان رضیت بالله ربا (یعنی میں اپنے رب کی رضا پر راضی ہوں۔) اس وقت ہی کہہ سکتا ہے، جب خدا تعالیٰ اسے اپنی جناب سے ایسا کہنے کی اجازت عطا فرمائے“۔295