تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 286 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 286

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اپریل 1976ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم جو کچھ مومن خرچ کرتے ہیں، اس میں ان کے اموال بھی شامل ہیں۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال کا خرچ ایک تو یہ ہے کہ کسی ایسی راہ میں یا کسی ایسے طریق پر یا کسی ایسی جگہ مال کو خرچ نہ کیا جائے ، جو خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔مثلاً اسراف نہ ہو۔یا مثلاً ایسی بداخلاقیوں پر یا عیاشیوں پر یا دنیا کی معیوب مسرتوں پر جود نیا خرچ کرتی ہے، اس قسم کا خرچ نہ ہو۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نہیں ہے۔اور یہاں پر اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہی ساری باتوں کا ذکر ہے۔اسی واسطے اس آیت کو شروع ہی خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں ثبات قدم دکھانے کے مضمون سے کیا گیا ہے۔پس ہر وہ جگہ جہاں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کا عطا کردہ مال یا دولت خرچ کی جاتی ہے، اس سے ثواب حاصل ہوتا ہے۔مثلاَولِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ پر عمل کرتے ہوئے اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے مناسب اور متوازن اور صحت مند غذا کھانا خدا تعالیٰ سے ثواب کو حاصل کرنا ہے۔بشرطیکہ نسیت یہ ہو کہ ہم خدا کی خاطر اس کی رضا کی طلب میں اور اس کی اطاعت میں خرچ کر رہے ہیں۔کیونکہ حکم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ اپنے نفس کے حقوق کو بھی اسی طرح ادا کرنا ہے، جس طرح کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ غیروں کے حقوق کو ادا کرنا ہے۔اگر ایک شخص اسراف اور ریا کی نیت سے نہیں بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ اپنی طاقتوں کو ضائع اور کمزور نہ کرو کیونکہ یہ بھی خدا کی ناشکری ہے۔پس اگر وہ اس نیست سے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، موسم کے لحاظ سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہوئے کپڑے پہنتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں متوازن غذا کھلاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے حکم کی پیروی اس کی نیت ہے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا کو حاصل کرتا ہے۔اگر کوئی شخص خدا کے حکم کے مطابق اپنے ہمسائے کا خیال رکھتا ہے اور اس اطاعت حکم میں اسے اپنے مال کا کچھ حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے یا اپنی طاقت کا کچھ حصہ خرچ کرنا پڑتا ہے، مثلاً ہمسائے کو ضرورت ہے، اس کے لئے دوالا نے والا کوئی نہیں، اگر وہ دوا کے لئے باہر جاتا ہے تو اس وقت اس نے اپنی طاقت کا ایک حصہ اپنے ہمسائے کے لئے خرچ کیا اور اس سے بھی ثواب حاصل ہوتا ہے۔اگر کوئی ں زمیندار ہے تو وہ اپنے بیلوں کے لئے اپنا وقت خرچ کرتا ہے، وقت پر ان کے لئے چارہ کاٹ کر لاتا ہے اور ان کو دیتا ہے اور اس کی نیت یہ ہے کہ یہ خدا کی مخلوق ہے، یہ بھوکی نہیں رہنی چاہیے اور اس کی نیت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے یہ ایک نعمت عطا کی ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے مجھے ان کی صحت کا اور ان کے طاقتور رکھنے کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا چاہیے تو اللہ تعالیٰ اسے ثواب دیتا 286