تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 285
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 اپریل 1976ء خدا کہتا ہے کہ جتنا تمہاری طاقت میں ہے، وہ دے دو اور باقی مجھ پر توکل رکھو خطبہ جمعہ فرمودہ 02 اپریل 1976ء سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورۃ رعد کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلوةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ (الرعد: 23) سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ الشَّيْئَةَ أُولَبِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ اس کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ رعد کی اس آیت میں بعض بنیادی تعلیمات کا ذکر فرمایا ہے۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ مومن اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثبات قدم دکھاتے ہیں اور ان میں استقامت پائی جاتی ہے۔اور دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور الصلوۃ کو ادا کرتے ہیں اور اسے قائم رکھتے ہیں۔اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔سر او علانیہ یعنی اس رنگ میں بھی خرچ کرتے ہیں کہ ان میں ریاء کا کوئی شائبہ پیدا نہ ہو۔اور اس طور پر بھی کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ اور اسوہ نہیں۔اور جب بدی کے ساتھ ان کا مقابلہ ہو تو وہ بدی کے مقابلہ میں بدی نہیں کرتے بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں ، لهم عقبی الدار کہ جن کا انجام بہترین ہوتا ہے۔اگلی آیات میں اس دار “ کا ذکر ہے اور ان جنات کو بیان کیا گیا ہے، جن کا کہ وعدہ دیا گیا ہے۔انسان اللہ تعالیٰ سے جو کچھ حاصل کرتا ہے ، وہ جب اس کی راہ میں اسے خرچ کرتا ہے تو اس میں اس کے اوقات بھی آجاتے ہیں، اس میں اس کی ذہنی صلاحیتیں بھی آجاتی ہیں، اس میں اس کی جسمانی قوتیں بھی آجاتی ہیں ، اس میں اس کی اخلاقی طاقتیں بھی آجاتی ہیں اور اس میں اس کی روحانی استعدادیں بھی آجاتی ہیں۔جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے، اسے مومن اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔اور ثبات قدم دکھاتے ہیں اور آگے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اور جب ان کے اعمال، جب ان کی کوششیں، جب ان کی جدوجہد مقبول ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جاتا ہے تو انہیں زیادہ سے زیادہ انعام حاصل ہوتے ہیں۔285