تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 278 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 278

ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم - حصہ لیں گے۔اور خلافت کی نگرانی کو بھی قبول کریں گے۔اور خلافت کی دعائیں بھی لینے والے ہوں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو جذب کرنے والے ہوں گے۔ان کے دلوں میں بھی اسی طرح جذبہ پیدا ہوگا ، جس طرح ہمارے دلوں میں ہے۔گویا اس زمانہ میں تمام بنی نوع انسان کو ایک امت واحدہ بنانا ہے، اس لئے ہمیں گھل مل کر رہنا چاہئے۔اور ہر پہلے عالم ، قطب اور ولی نے یہی لکھا ہے۔ابھی پچھلے دنوں میں ایران سے چار کتابیں آئی ہیں۔میں نے ان پر سرسری نگال ڈالی تو ان میں مجھے ایک پرانا حوالہ نظر آ گیا۔وہ یہ ہے کہ مہدی کے زمانہ میں تمام انسانوں کو ایک کر دیا جائے گا۔گو ہمیں اس کا پہلے سے علم ہے۔لیکن جب اس قسم کی چیزیں نظر آتی ہیں تو ہمارے علم میں اس لحاظ سے اضافہ ہو جاتا ہے کہ پہلے لوگوں نے بھی یہی لکھا ہے کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں بنی نوع انسان کوملت واحدہ بنا دیا جائے گا، اسے ایک خاندان بنادیا جائے گا۔اگر ایک خاندان بن جانا ہے تو پھر ہم ایک پاکستانی مبلغ اور ایک غانین مبلغ کے دوران فرق نہیں کر سکتے۔سب ایک ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ سب پر ایک جیسا پڑ رہا ہے۔یہ تو نصیحت ہے، اپنے شاہدین کو، وہ اپنی ذہنیتوں کو بدلیں“۔اس وقت تک قریباً 86 سال گزر گئے ہیں۔یعنی جماعت احمدیہ کو مہدی مہود علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہنے کے بعد اسلام کی خدمت میں قربانیاں کرنے پر 86 سال گزر چکے ہیں۔وہ لوگ ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں احمدی ہوئے اور آپ کی صحبت میں رہے اور جنہوں نے آپ کی تربیت حاصل کی ، ان میں سے اکثر تو فوت ہو چکے ہیں۔انہوں نے ساری قربانیاں دیں لیکن ان کو اس دنیا میں پھل نہیں ملا۔یہ کہنا غلط ہو گا کہ ان کو پھل نہیں ملا۔ان کو اس کا پھل یہ ثمرہ یا نتیجہ یا ثواب تو ملا۔اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنتیں تو ملیں لیکن اس دنیا میں انہوں نے اپنی قربانیوں کا نتیجہ نہیں دیکھا۔پھر اور نسلیس پیدا ہوئیں۔اس وقت سے اس وقت تک چار، پانچ نسلیں پیدا ہو چکی ہیں۔اب ایک نوجوان نسل ہمارے سامنے ہے، یعنی اطفال کی۔اور اس سے ذرہ بڑی خدام کے نچلے حصہ کی، جن کی تربیت کرنی بڑی ضروری ہے۔میں نے بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ابھی تین صدیاں پوری نہیں ہوں گی کہ غلبہ اسلام کی جو بشارتیں میں دے رہا ہوں ، وہ معرض وجود میں آجائیں گی۔تین صدیاں پوری نہیں ہوں گی، یہ نہیں کہا کہ تین صدیاں گزرنے کے بعد یہ ہوگا۔اس کا مطلب ہے کہ دوسری صدی میں بھی غلبہ اسلام کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔اور جو میں نے غور کیا ہے اور میں نے جو دعائیں کی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جس طرف میری توجہ پھری ہے، جس کا میں نے 73ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر بھی صد سالہ جو بلی منصوبے کے طور پر اعلان کیا تھا، وہ یہ ہے کہ میرے نزدیک پہلی صدی ، تیاری کی صدی ہے اور دوسری 278