تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 279
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1975ء صدی، غلبہ اسلام کی صدی ہے۔پس غلبہ اسلام کی صدی ہمارے سامنے ہے۔ایسے وقت میں جب کہ آپ کے سامنے چودہ قدم آگے بڑھنا ہو اور ان پھلوں کو تم نے دنیا میں حاصل کر لینا ہو، جو تمہارے لیے اس دنیا میں مقدر ہے تو کیا اسے وقت میں جماعت احمد یہ کمزوری دکھا جائے گی ؟ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت احمد یہ کمزوری نہیں دکھائے گی۔لیکن احباب جماعت اپنے ذہنوں میں اس بات کو یا درکھیں کہ وہ لوگ ، جن کے کان میں یہ آواز پڑتی تھی کہ تین صدیاں ابھی پوری نہیں ہوں گی کہ جماعت احمد یہ جس مقصد کے لئے قائم کی گئی ہے، وہ اسے مل جائے گا۔ان میں سے کوئی تمیں سال کی عمر کا تھا اور کوئی چالیس سال کا تھا، ان کو تو یہ پتہ تھا کہ تین صدیاں ابھی پوری نہیں ہوں گی کہ غلبہ اسلام ہوگا۔لیکن یہ احساس بھی تھا کہ ہمیں تو یہ زمانہ اس دنیا میں میسر نہیں آئے گا۔لیکن اس احساس کے باوجود قربانیوں پر قربانیاں دیتے جا رہے تھے۔اس احساس کے باوجود وہ اپنی قربانیوں کے معیار کو دن بدن بلند کر رہے تھے۔میں نے پہلے مثال دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چند روپوں کی کی ضرورت تھی، کنواں لگا نا تھا۔ہمارے نانا جان ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بڑے پیسے کمانے والے تھے۔ان کے متعلق آر نے خود لکھ دیا کہ آپ کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے ، میں نے خود دو آنے چندہ لکھ دیا ہے۔یہ وہ لوگ تھے، جن کا اس زمانے میں دو آنے چندہ دینا، بڑا معرکہ تھا۔لیکن جنہوں نے پھر اپنی ساری جائیداد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن اور بعثت کی غرض کے لئے قربان کر دی اور خدا تعالیٰ کے حضور اپنا سب مال پیش کر دیا، اپنی جائیدادیں بھی ، اپنی زندگیاں بھی ، اپنے اوقات بھی اور اپنے آرام بھی حتی کہ دنیا کی امیدیں بھی ، سب قربان کر دیں۔ان کو پتہ تھا اوران کو یقین تھا کہ جوشخص ہمیں یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی تین صدیاں پوری نہیں ہوں گی ، اس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ شاید ہماری زندگیوں میں یہ کام نہیں ہو گا۔لیکن خدا کا وعدہ ہے، وہ تو ضرور پورا ہوگا۔جو چیز اس دنیا میں ہم حاصل نہیں کر سکتے ، اس چیز سے ہم اپنی نسلوں کو کیوں محروم کریں؟ قربانی کرنے والا تو اپنے ثمرہ کو پالیتا ہے۔لیکن اس دنیا میں اس کا جو مرہ ملنا ہے، وہ یہ خوشی کا دن ہے کہ ساری دنیا اسلام قبول کر چکی اور توحید باری کا جھنڈا ہر دل میں گڑ چکا اور ہر گھر سے لا اله الا الله محمد رسول الله کی آواز آرہی ہے۔کتنا خوش کن تصور ہے۔اس غلبہ کی ابتداء اب چودہ سو سال نہیں بلکہ صرف چودہ سال کے بعد شروع ہورہی ہے۔کسی شاعر نے تو کہا تھا۔279