تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 277 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 277

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1975ء پر غانا کا باشندہ، غانا کا مبلغ انچارچ ہونا چاہیے۔میں نے ان کو بلایا، میں نے کہا، تم یہ کیا بات کر رہے ہو ؟ جماعت احمدیہ جس مقصد کے لئے پیدا کی گئی ہے، اس کے پیش نظر تو میں یہ سوچ رہا ہوں کہ A۔A Ghanian for Americal Ghanian for The Great Britain یعنی برطانیہ اور امریکہ میں تمہیں مبلغ انچارچ لگا دوں۔روس میں تمہارا آدمی جا کر اسلام کی تبلیغ کرے اور وہاں بنی نوع کی خدمت کرے۔اس لئے جب ہمارا مقصد اتنا بلند ہے تو تم نے یہ کیا کہنا شروع کر دیا ہے۔میں نے عبد الوہاب بن آدم کا نام لے کر کہا، میں اس کو غیر ممالک میں بھجوانا چاہتا ہوں۔چنانچہ میں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اسے میں نے دو، تین سال تک انگلستان بھجوادیا۔پھر نا نا میں ہمارے مبلغ انچارج عطاء اللہ کلیم صاحب بیمار ہو گئے۔اور اب وہ مرکز میں تشریف لے آئے ہیں تو انگلستان سے عبدالوہاب بن آدم کو وہاں بھیجوا دیا اور انچارچ مبلغ بنا دیا۔اب مجھے اپنے پاکستانی مبلغ کے خط آرہے ہیں اور یوں لگتا ہے ، وہ بہت گھبرا رہا ہے کہ غائیں کے ماتحت ہم ٹھیک طرح کیسے کام کریں گے ؟ تم کیسے کام نہیں کرو گے ! اگر جماعت احمدیہ کے ایک فرد ہو، اگر تم جماعت احمدیہ کے ایک عالم ہو ، اگر تم وہاں جماعت کے ایک نمائندہ ہو تو جس طرح تمہارا یہ حق تھا اور غانین شاہد کا یہ حق تھا کہ بطور امیر کے وہ تمہاری اطاعت کرے، اسی طرح تمہارا یہ حق ہے اور اس کا یہ حق ہے کہ تم اس کی اطاعت اسی بشاشت کے ساتھ اور اسی جذبہ اخلاص کے ساتھ کرو۔ورنہ تو تمہارا یہ دعوئی ہی غلط ٹھہرتا ہے کہ ہم بین الاقوامی حیثیت کی ایک جماعت ہیں۔اب یہاں سے اور مبلغین جارہے ہیں۔میں ان سے یہ کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ شیرنی اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ وہ شیر کے بچے شیر نہیں ہیں۔وہ اپنے مقام کے لحاظ سے حفاظت کرتی ہے۔پس ایک وقت تھا کہ جب ہماری توجہ مرکز کی بنیاد مضبوط کرنے پر تھی۔ہم نے غیر ممالک کی احمدی جماعتوں کی اس طرح حفاظت کی، جس طرح شیرنی اپنے بچوں کی کرتی ہے۔تا کہ وہ غیر تربیت یافتہ نہ ہو جائیں اور بداثرات کی وجہ سے ان میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہو جائے۔لیکن جس طرح شیرنی کا بچہ جب جوان ہو جاتا ہے تو پھر اس کو اپنی ماں کی حفاظت کی ضرورت نہیں رہتی، اس طرح انسان آزاد نہیں ہوتا۔کیونکہ انسان اور شیر میں یہ فرق ہے کہ شیر کا بچہ تو بالکل آزاد ہو جاتا ہے لیکن انسان اپنے خدا اور خدا کے قائم کردہ نظام سے آزاد نہیں ہوا کرتا۔اب ہمارے مبلغین نظام خلافت کے نیچے آزادنہ طور پر اپنے ملک میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی جا کر بھی انچارچ مبلغ بنیں گے۔خدمت دین کے کام کریں گے۔اور خلافت کی برکات سے بھی 277