تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 258
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم اتنے تھوڑے ہیں کہ ایک مبلغ کو، جسے ہم ایسے علاقے میں بھیجتے ہیں، جہاں جرمن بولی جاتی ہے، اسے لمبے عرصہ تک ہم اس لئے واپس نہیں بلا سکتے کہ جرمن زبان جانے والا ہمارے پاس کوئی اور نہیں ہوتا۔دوست قدر نہیں کرتے مبلغین کی۔انہیں مختلف زبانیں جاننے والوں کی کمی کی وجہ سے جلد جلد واپس نہیں بلایا جا سکتا اور انہیں طویل عرصہ تک وطن اور گھر سے دور رہ کر کام کرنا پڑتا ہے۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ ان کی قربانیوں کی قدر کریں اور ان کے لئے دعائیں کیا کریں۔الغرض ہمیں ایسے دماغ چاہئیں، جو اعلیٰ درجہ کے عالم ہوں۔اس وقت حالت یہ ہے کہ قرآن مجید کا روسی زبان میں ترجمہ مکمل ہو جانے کے باوجود ہم اسے محض اس لئے نہیں چھاپ سکتے کہ روسی زبان جاننے والا کوئی احمدی ہمارے پاس نہیں ہے، جو اس پر نظر ثانی کر کے یہ تسلی کر سکے کہ ترجمہ درست اور متن کے عین مطابق ہے۔ترجمہ بامر مجبوری ایک غیر مسلم سے کرایا گیا ہے۔جب تک یہ تسلی نہ ہو کہ اس نے صحیح ترجمہ کیا ہے، وہ چھپ نہیں سکتا۔اور یہ تسلی اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ کوئی احمدی روسی زبان میں دسترس حاصل کر کے اسے چیک کرے۔زبانیں سیکھنے کی اہمیت کے پیش نظر ایک لڑکے کو یوگوسلاویہ بھیجا ہے۔وہ مشکلات سے دو چار ہونے کے باوجود بہت محنت سے زبان سیکھ رہا ہے۔ابھی حال ہی میں اس کا ایک امتحان ہوا ہے۔اس نے یہ امتحان بہت اچھے نمبر حاصل کر کے پاس کیا ہے۔لیکن یہ تو ایک زبان ہے، جو وہ سیکھ رہا ہے۔دنیا میں سو سے زیادہ زبانیں بولی جاتیں ہیں۔ہر زبان، زبان حال سے جماعت احمدیہ کو کہہ رہی ہے، ہمیں اس زبان کا جانے والا مبلغ دو۔یہ جبھی ممکن ہوسکتا ہے کہ ہمارے نوجوان علوم اور زبانیں سیکھنے کی طرف متوجہ ہوں اور ان میں کمال حاصل کریں۔ہر میدان میں جو آگے بڑھے ہوئے ہوں ، وہ احمدی ہونے چاہئیں۔وہ اپنے اپنے شعبہ میں اپنا کام بھی کریں اور جب اسلام پر حملہ ہو تو اس کا جواب بھی دیں“۔حضور نے فرمایا:۔ہم میں علوم اور زبانوں کے سینکڑوں اور ہزاروں ماہر ہونے چاہئیں۔تاہم سردست اگر ایک عالم بھی ملتا ہو تو اسے لے لینا چاہئے۔اور اس سے جس حد تک ممکن ہو فائدہ اٹھانا چاہئے۔اس ضمن میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام کا تذکرہ فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور الہام ہے، جو اس امر پر شاہد ناطق ہے کہ وو مستقبل میں احمدیت یعنی حقیقی اسلام ہی مدینۃ العلم ہوگا۔وہ الہام یہ ہے کہ:۔انت مدينة العلم" (اربعین نمبر 3 صفحہ 81 ، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 423) 258