تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 252
اقتباس از خطاب فرموده 26 دسمبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج سے چودہ سو سال پہلے دی۔خدا نے یہ چاہا کہ دنیا مہدی علیہ السلام کے مقام، عزت واحترام کو پہچانے۔اور اس نے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہاکہ دنیا کو ہو کہ مہدی کی عزت اور احترام کرے۔چنانچہ آپ نے ساری امت میں سے ایک کو یعنی مہدی کو منتخب کر کے اسے اپنا سلام پہنچایا۔ہمیں سینکڑوں ایسی احادیث ملتی ہیں، جن سے پتہ لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینہ میں اپنے اس روحانی فرزند سے، جو آپ سے تیرہ سو سال کے بعد پیدا ہونے والا تھا، اس قدر محبت موجزن تھی کہ یہ محمد ہی کا کام تھا کہ اس محبت کو الفاظ میں بیان کر سکیں۔میں اور آپ اس کو بیان نہیں کر سکتے۔ہر فرقے کی کتب میں ایسی روایات موجود ہیں، جن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں مہدی کی محبت کا ذکر کیا گیا ہے۔پھر یہ خدا تعالیٰ کی شان اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے نظارے ہیں کہ وہ جسے گھر والے روٹی دینا بھول جاتے تھے (حالانکہ وہ ان کی دولت میں ان کا برابر کا شریک تھا) اور اسے اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں کی غفلت کے نتیجہ میں فاقہ کشی کرنی پڑتی تھی ، اس کے لئے خدا نے کہا کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ اور وہ اکیلا اور غیر معروف شخص اٹھا اور اس کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی۔اس موقع پر حضور رحمہ اللہ نے ان تمام غیر ملکی احباب کو جو وفود کی صورت میں جلسہ میں شامل ہوئے تھے، کھڑے ہونے کا ارشاد فرمایا۔حضور کے ارشاد کے مطابق تمام غیر ملکی احباب کھڑے ہو گئے۔اس دوران جلسہ گاہ نعرہ ہائے تکبیر اور اسلامی عظمت کے دوسرے نعروں سے گونج اٹھی۔) یہ لوگ امریکہ سے آنے والے ہیں، جو مغرب کی طرف غالباً نو، دس ہزار میل کے فاصلے پر ہے۔اور یہ مشرق کی طرف سے انڈونیشیا سے آنے والے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی آواز پہنچی اور وہاں احمدی ہوئے۔اور افریقہ کا براعظم ، جس کو دنیا نے اندھیرا اور ظلماتی براعظم کہا تھا ، اس افریقہ کے براعظم کے دل میں خدا تعالیٰ نے نور پیدا کر دیا۔اور یورپ، جو بے راہ روی کا مرکز بن چکا تھا، اس میں سے یہ پیارے وجود پیدا ہورہے ہیں۔کتابوں میں سے یہ الہام مٹایا جا سکتا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔“ کیونکہ وہ سیاہی سے لکھا ہوا ہے۔اور دیواروں پر سے بھی مٹایا جا سکتا ہے۔لیکن اس کرہ ارض کے چہرہ سے یہ نہیں مٹایا جاسکتا۔کیونکہ اس کے اوپر ان انسانوں نے یہ تحریر کیا ہے۔لیکن میں پھر اپنی حقیقت کی طرف آتا ہوں۔ایک سیکنڈ کے لئے بھی تمہارے اندر کبر اور غرور پیدا نہ ہو، تمہارے سر عاجزی سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہیں۔تمہارے سر اس سے زیادہ جھکنے چاہئیں، جتنا کہ اس جذبہ کے 252