تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 249

تحریک جدید - ایک ابی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطبہ عید الاضحیہ فرمود 14 دسمبر 1975ء زندگیوں کو وقف کر دینے کا جو سبق دیا گیا ہے، اسے ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے خطبہ عیدالاضحیہ فرمودہ 14 دسمبر 1975ء حضور نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رؤیا اور اس کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کے لئے دونوں باپ بیٹوں کی آمادگی کا ذکر کرنے کے بعد بتایا کہ ”خدا تعالیٰ نے اس امتحان میں کامیاب قرار دیتے ہوئے ، جان کی قربانی کی بجائے زندگی کا ہر لمحہ خدا کی خاطر وقف کر دینے کا انہیں ارشاد فرمایا۔جس کے مطابق مکہ معظمہ کی وادی بے آب و گیاہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ان کی والدہ کے ہمراہ چھوڑا گیا۔اور اللہ تعالیٰ نے وہاں پر اپنی قدرت کا غیر معمولی نظارہ دکھایا۔اور اس طرح دنیا میں زندگی کی قربانی کا ایک اعلیٰ درجہ کا اسوہ قائم کیا گیا۔اور یہ سب کچھ سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی عظمت کے پیش نظر بطور تیاری کے کیا گیا۔جبکہ حقیقی معنوں میں توحید الہی کے قیام کی خاطر زندگی کی قربانی کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے انتہائی انعامات نازل ہوئے“۔حضور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے ذریعہ جو سبق دیا تھا، اسے آہستہ آہستہ بھلا دیا گیا۔حتی کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو انہی لوگوں نے جنہیں اللهم لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے خدائی آواز کو قبول کرنے کا سبق دیا گیا تھا، اسلام کی مخالفت شروع کر دی۔اور وہ مسلمانوں کو صابی قرار دینے لگے۔اور اس امر پر فخر کرنے لگے کہ حاجیوں کو پانی پلانے اور خانہ کعبہ کو آباد رکھنے کا کام تو ہم کرتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں بتایا کہ یہ کام ہرگز ان مسلمانوں کے برابر نہیں ہے، جو اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کر رہے ہیں۔کیونکہ اس جہاد کے نتیجہ میں بہت بڑے درجات اور اجر مقدر ہیں۔آخر میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ذریعہ سے نسلاً بعد نسل قربانی کرنے اور اپنی پوری زندگیوں کو دین کے لئے وقف کر دینے کا جو سبق دیا گیا ہے، ہماری جماعت کو اسے ہمیشہ پیش نظر رکھنا 249