تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 241
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء ریسٹورنٹ میں چائے کی ایک پیالی چھ روپے کی ملتی ہے۔بڑا ہی مہنگا ملک ہے۔پس اگر وہاں پر ایک لاکھ یا سوا لاکھ وہاں کے روپے کا پر لیس لگ جائے تو ان کے لحاظ سے یہ زیادہ مہنگا نہیں۔لیکن جو ہمارا پاکستانی روپے کا تصور ہے، اس کے لحاظ سے یہ بائیں ، تئیس لاکھ سے تمہیں لاکھ روپے تک بن جاتا ہے۔انگلستان کی جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی بڑھ بھی گئی ہے۔(میرے ان دوروں کے درمیان بھی بہت بڑھی ہے۔) اور فعال اور مخلص بھی بڑی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی قربانیوں کو قبول کرے اور انہیں احسن جزا دے۔ابھی تو دو مساجد کی ذمہ داری میں ان کے اوپر ڈال آیا ہوں۔یعنی پہلی مسجد کا 70 75 فیصد اور دوسری اوسلو کی مسجد کا قریباً سارا خرچ۔یہ انشاء اللہ ہو جائے گا۔اس کے بعد پھر وہ پریس کے لئے بھی تیار ہیں۔ان کی کچھ اپنے مشن کی ضرورتیں تھیں، ان کے لئے کچھ مزید تعمیر کرنے کے لئے میں نے ان کو 12,14 ہزار پاؤنڈ کی اجازت دی تھی۔کیونکہ جس مشن ہاؤس کا ہال بنتے وقت بہت بڑا سمجھا گیا تھا اور یہ بحث ہوگئی تھی کہ اتنا بڑا ہال کیوں بنایا جائے ، اس سے چھوٹا ہونا چاہیے؟ اب اس میں گنجائش ہی نہیں رہی ، جماعت اس میں ساتی بھی نہیں۔اسی طرح جو دفتر ہیں، ان میں بھی کام نہیں سما تا تو بارہ ہزار پاؤنڈ کا مطلب ہے، پچیس روپے فی پاؤنڈ کے حساب سے تین لاکھ روپیہ۔چنانچہ کچھ چھوٹی چھوٹی اینکسیز (Annexies) یعنی چھوٹے چھوٹے کمرے مزید بن جائیں گے اور ان کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔پھر اس میں بھی انشاء اللہ وسعت ہوگی۔وہاں ہمارے پاس زمین بڑی ہے۔اصل منصوبہ پیسے اکٹھے کرنے کا تو نہیں ہے نا۔اصل منصوبہ تو یہ کہنا چاہیے کہ پیسے خرچ کرنے کا ہے۔اور جتنے پیسے میں نے سوچا تھا کہ ہمیں خرچ کرنے چاہئیں، اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا کہ جماعت اس سے زیادہ خرچ کرے۔جتنے میں نے کہا تھا کہ وعدے کرو، اس سے چار گنے زیادہ جماعت نے وعدے کر دیئے ہیں۔میں نے کہا تھا، اڑھائی کروڑ۔جماعت نے کہا، دس کروڑ۔میں نے کہا، یہی ٹھیک ہے۔میں سمجھ گیا کہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ دس کروڑ خرچ کرو، دس کروڑ کی ضرورت پڑے گی۔آپ نے وعدے کر دیئے ہیں۔میں نے بتایا ہے کہ بعض وعدے ایسے ہیں کہ اگر وہ ادا نہ ہوں تو کسی پر کوئی الزام نہیں آتا۔بلکہ وہ ہماری اور دعاؤں کے مستحق ہو جاتے ہیں۔مثلاً میں ایک مثال دے دیتا ہوں ، جس سے بات واضح ہو جائے گی۔ایک طالب علم، جو میڈیکل میں تھر ڈائیر میں پڑھ رہا تھا، اس کی کوئی آمد نہیں تھی، وہ تو اپنے ماں باپ کا خرچ کر وار ہا تھا۔اس نے کہا کہ میں ڈاکٹر بنوں گا۔یہاں پاکستان میں ڈاکٹر بہت کماتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں احمدی ڈاکٹر بنوں گا، میں غریبوں کا مفت علاج کروں گا۔میں اتنا نہیں کماؤں گا لیکن پھر 241