تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 238

خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم ایک لاکھ انگریزی کے تراجم خریدنے کے لئے تیار ہیں لیکن قیمت کا 60 فیصد ہمارے لئے کمیشن دو۔یعنی اگر قرآن کریم کی دس جلدوں کی قیمت سوروپے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ روپے نہیں دیں۔ان سے پوچھا کہ اتنا کمیشن ! انہوں نے کہا نہیں، سارا ہمارا نہیں ہے۔وہ تھوک میں بیچنے والے کتب فروش تھے۔کہنے لگے کہ بیس فی صد ہمارا کمیشن ہے اور چالیس فیصد جو آگے اپنی دکانوں پر رکھیں گے ، ان کا کمیشن ہے۔وہ کہتے تھے کہ بے شک اس کی قیمتیں بڑھا دو۔لیکن قیمتیں بڑھا کر تو ہم اس تعداد میں دنیا میں قرآن کریم کے تراجم نہیں پھیلا سکتے، جس تعداد میں ہم پھیلانا چاہتے ہیں۔اس مثال میں اگر ہمارا اپنا پر لیس ہو تو ہم قرآن کریم کی دس کا پیاں سوروپے کی بجائے چالیس روپے خرچ کر کے دنیا کے ہاتھ میں دے سکتے ہیں۔بڑا فرق ہے۔اس واسطے باہر ہمارے اپنے پریس ہونے چاہئیں۔امریکہ میں اس وقت سب سے زیادہ آزادی ہے۔آگے تو خدا بہتر جانتا ہے۔اس واسطے دعائیں کرو کہ ہم جو منصوبہ بنائیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی آئندہ برکتوں والا ہو۔اس وقت سب سے زیادہ آزادی امریکہ میں ہے۔وہاں شائع کرنے کی بھی کوئی پابندیاں نہیں ہیں اور وہاں سے لٹریچر ساری دنیا میں بھیجا بھی جاسکتا ہے۔تاہم اور بھی بہت سے ملک ہیں، جن میں آزادی ہے۔صرف امریکہ نہیں ہے۔مثلاً موجودہ حالات میں افریقہ کے ممالک ہیں اور ان کے اوپر جماعت کا بڑا اثر ہے۔اس منصوبہ سے معا پہلے جو نصرت جہاں آگے بڑھو“ کا منصوبہ تھا، وہ صرف مغربی افریقہ کے لئے تھا۔ایک محدود اور چھوٹا سا منصوبہ تھا، اس نے مغربی افریقہ میں اتنا اثر پیدا کیا ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔اور اس اثر کو دیکھ کر ہماری گردن خدا تعالیٰ کے حضور اور بھی جھک جاتی ہے۔کتنی حقیری پیشکش تھی، جو ہم نے خدا تعالیٰ کے حضور پیش کی۔اور اتنے عظیم اس کے نتائج نکل رہے ہیں۔اب ایک ملک میں تو یہ حال ہے کہ ہمارے وہاں کے مبلغ جب دورہ کرتے ہیں تو قریباً ہر علاقے میں اس جگہ کے لوگ پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ آپ ہمارے ہاں سکول کھولیں اور ہمارے بچوں کو عیسائیت سے بچائیں۔ہمارے ہاں ہسپتال کھولیں اور ہمارے بڑوں کو عیسائیت سے بچائیں۔گوخدا کے فضل سے ہم آہستہ آہستہ پھیل رہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ جتنی توفیق دیتا ہے، وہ کام ہو رہا ہے۔لیکن یہ کام تو پانچ سال کا تھا۔نصرت جہاں کی سکیم 1970ء میں، میں نے جاری کی تھی۔اور جلسہ سالانہ پر اس کا اعلان کیا تھا۔اس وقت اپنے حالات کو دیکھ کر ، جماعت کے حالات کو دیکھ کر یہ خیال تھا کہ سات سال میں یا بہت ہی جلدی کر سکے تو پانچ سال میں، میں اپنا وعدہ پورا کر سکوں گا۔میں نے دعائیں کیں، جماعت نے 238