تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 237 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 237

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء ہیں۔اور یہ مطالبہ ہو گیا ہے کہ ہمیں اس قسم کا لٹریچر دیں۔ٹھیک ہے صرف دلائل سمجھا کر اور خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے، جو وہ احمدیت پر ظاہر کرتا ہے ، وہ ان کے سامنے رکھ کر ان کو احمدی بنا لینا تو کافی نہیں ہے۔بلکہ اسلام کی صحیح تعلیم اور قرآن عظیم کی صحیح تصویر ان کے سامنے رکھ کر کوشش کرنا کہ یہ ان کے دلوں میں رچ جائے ، یہ اصل چیز ہے۔یہ اگر ہم ان کو نہ دے سکیں تو ایسا ہی ہے کہ ہم نے بڑا خوبصورت اور صحت مند درخت لگا دیا لیکن اس کو پانی دینے کا ہم نے کوئی انتظام نہیں کیا تو وہ کیسے زندہ رہے گا اور کیسے بڑھے گا ؟ کیسے نشو و نما حاصل کرے گا یا کم از کم کیسے اس قسم کی نشو و نما حاصل کرے گا، جیسی ایک صحت مند درخت جب ایک اچھی زمین میں لگایا جائے تو وہ حاصل کر سکتا ہے؟ اس کی تو ساری ضرورتیں پوری ہونی چاہئیں۔تب جا کر وہ اپنی چھپی ہوئی استعدادوں کی نمائش کر سکتا ہے۔اور تب وہ اپنی حسین شکل ظاہر کرتا ہے۔اور تب وہ دنیا کے لئے بھلائی کے سامان پیدا کر سکتا ہے، اس کے بغیر تو نہیں کر سکتا۔لٹر پچر کے لئے اب یہاں سے ہمیں کتب وغیرہ باہر بھیجنے میں کچھ دقت پیدا ہورہی ہے، جو بھی ذمہ دار ہیں، ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں سمجھے اور مقتل عطا کرے۔اور ہر پاکستانی کا جو حق ہے، اس کی ادائیگی کی انہیں توفیق عطا کرے۔لیکن اگر یہاں کچھ عرصہ تک اس قسم کے حالات رہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے بیٹھ جائیں گے۔اور وہ ذمہ داریاں جو خدا تعالیٰ نے ہم پر ڈالی ہیں، ان کو نظر انداز کر دیں گے اور اپنے کام چھوڑ دیں گے۔بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ جب ہم پر ایک دروازہ بند کیا جائے گا تو ہم انتہائی عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اور انتہائی عاقلانہ تدبیر کے ساتھ دنیا میں جہاں بھی اس کام کا کوئی دوسرا دروازہ کھل سکتا ہو ، وہ کھولیں گے۔اور خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کی راہ میں کوئی روک قائم نہیں رہنے دیں گے۔ہماری یہ کوششیں اگر ہماری دعائیں اپنی شرائط کے ساتھ ہوں تو بار آور ہوں گی، انشاء اللہ۔اسی لئے میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں کیوں کہا گیا کہ ہمیں بیرون پاکستان دو جگہ، دو ممالک میں پریس کھولنے پڑیں گے۔اس وقت تو میرے ذہن میں یہ چیز نہیں تھی۔لیکن حالات نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ، جو ہادی ہے، جو معلم حقیقی ہے، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، اس کے علم میں تو تھا۔پس جب تک ہم باہر اپنے پریس نہ کھولیں، ہم اسلام کی حقانیت میں اور توحید کے ثبوت میں لٹریچر اس تعداد میں شائع نہیں کر سکتے ، جتنا کہ ہم اپنے مطبع خانے اور اپنے پریس کے ذریعے کر سکتے ہیں۔کیونکہ دوسرے بہت مہنگا شائع کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے نفع رکھتے ہیں، ان کے اپنے معیار ہیں، ان کی اپنی قیمتیں ہیں ، ان کا اپنا طریق کار ہے۔مثلاً ہمیں ایک امریکن فرم نے کہا کہ ہم آپ سے قرآن کریم کے 237