تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 220 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 220

خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 17 اکتوبر 1975ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اس نے کہا آپ کی زبان میرے لئے کافی ہے، مجھے اور کسی ضمانت کی ضرورت نہیں۔جب جماعت کا خلیفہ وہاں زبان دے کر آیا ہے تو کیا آپ اس کا پاس نہ کریں گے اور چندوں سے متعلق اپنے وعدے بر وقت پورے نہیں کریں گے؟“ اسی ضمن میں دوسرے اہم کام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔دوسرے نمبر پر خود اس مشن کو وسعت دینے اور اسے اور زیادہ مضبوط بنانے کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے کاموں میں دن بدن وسعت پیدا کر رہا ہے۔جب چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے احباب چوہدری صاحب کی صحت و عافیت اور درازی عمر کے لئے دعائیں کریں۔وہ مالی قربانیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔) موجودہ مشن ہاؤس اور اس سے ملحق محمود ہال تعمیر کروانا شروع کیا تو تعمیر کردہ ہال کو اس وقت کی ضرورت سے زیادہ بڑا اور وسیع خیال کیا گیا تھا۔لیکن چند سال کے اندر اندر اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مزید ترقی دے کر ثابت کر دکھایا کہ یہ ہال بھی نا کافی ہے اور اب اس سے بھی بڑے ہال کی ضرورت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت سے ہمیں یہ حکم ہے کہ وَسِعُ مَكَانَكَ یعنی یہ کہ ہم اپنے مکانوں کو وسیع کرتے چلے جائیں۔چنانچہ ہم اس خدائی حکم کی تعمیل میں پہلے سے زیادہ وسیع عمارتیں بناتے ہیں۔لیکن ہر سال ہی جب جلسہ سالانہ آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بھی ناکافی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں مخاطب کر کے فرمایا ہے:۔”میرے درخت وجود کی سرسبز شاخو!“ بڑا ہی پیارا جملہ ہے، جس سے ہمیں مخاطب کیا گیا ہے۔اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ ہمارے لئے من جانب اللہ سر سبزی و شادابی ہی مقدر ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کا ثبوت دیتا چلا آرہا ہے۔گزشتہ سال جب حالات بظاہر پریشان کن تھے، میں نے ایک رات اللہ تعالیٰ کے حضور بہت دعا کی۔صبح کے وقت الہام ہوا۔وَسِعُ مَكَانَكَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ۔یہ ایک بہت بڑی تسلی تھی ، جو اس وقت دی گئی اور ساتھ ہی جماعت کی مزید ترقی کے پیش نظر مکانوں کو وسیع کرنے کا حکم دیا گیا۔اس امر کو ایک تازہ مثال سے واضح کرتے ہوئے کہ خدا تعالیٰ کس طرح ہمیں اپنی برکتوں اور کامیابیوں سے نواز رہا ہے، حضور نے فرمایا:۔د گوٹن برگ میں جب میں نے مسجد کی بنیاد رکھی تو اس سے اگلے روز چودہ یوگوسلاوین دوست بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہوئے۔اس کے بعد جب میں وہاں سے واپس آیا تو کمال یوسف 220