تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 6

خطبہ جمعہ فرموده 09 نومبر 1973ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اب یہ ایک دوسری لہر آئی ہے، جو استحکام کا کام کر رہی ہے۔اور آگے بڑھنے کے لئے حالات پیدا کر رہی ہے۔پھر ایک اور صف پیچھے سے آئے گی، جو ان صفوں سے آگے نکل جائے گی۔یہاں تک کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آجائے گا اور خدا تعالیٰ کا وعدہ اپنی پوری شان اور کامل عروج کے ساتھ پورا ہوگا۔اور ہمارے دل ، جن کی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ یہ حالات پیدا کرے گا ، خدا کی حمد سے اور خدا کی پیدا کردہ خوشیوں سے معمور ہو جائیں گے۔بہر حال تحریک جدید کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔نہ ان کو بھلایا جا سکتا ہے، جنہوں نے ان مشکلات کے وقت میں دنیا میں مہدی کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے اسلام کے لئے باہر نکل کر تکالیف برداشت کیں اور اسلام کے لئے کام کیا۔یہ کام ختم نہیں ہوا۔یعنی تحریک جدید کا حملہ ایک جگہ تک گیا۔پھر اور صنفیں تیار ہورہی ہیں، مبلغ تیار ہورہے ہیں، کتابیں طبع ہو رہی ہیں، وہ بھی جائیں گے۔جماعت میں وسعت پیدا ہورہی ہے۔کسی اور نام کے ساتھ بھی لوگ باہر جائیں گے لیکن تحریک جدید کا نام ہماری تاریخ سے محو نہیں کیا جاسکتا، اسے قیامت تک چلنا ہے اور اسے کامیاب رکھنے کے لئے جس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے، بہر حال اللہ تعالٰی کی رحمت اور اس کے فضل سے ہم نے ان قربانیوں کو اس کے حضور پیش کرنا ہے۔تحریک جدید کی اہمیت کے ایک پہلو کو نمایاں کر کے میں نے اس وقت آپ کے سامنے رکھا ہے۔انتالیس سال گزر چکے ہیں اور قیامت تک خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کتنے سال اور گذریں گے۔ہر سال ہم نے پہلے سے آگے قدم رکھنا ہے۔ہر سال ہمارے کام میں وسعت اور شدت پیدا ہوگی۔اور ہر سال جماعت کی وسعت کے ساتھ جماعت کی قربانیوں میں بھی ایک وسعت پیدا ہوگی۔اس وقت میں چالیسویں سال کا اعلان کر رہا ہوں۔اس سے قبل چونتیسویں سال سے لے کر انتالیسویں سال کے وعدوں کی رفتار یہ ہے، تحریک جدید کے چونتیسویں سال میں پانچ لاکھ، پچاس ہزار روپے کے وعدے تھے۔پینتیسویں سال میں چھ لاکھ، میں ہزار کے وعدے تھے۔چھتیسویں سال میں چھ لاکھ، پینسٹھ ہزار روپے کے وعدے تھے۔سینتیسویں سال میں ملک کے حالات کے لحاظ سے ایک جھٹکا لگا۔گو ہمارا قدم پیچھے تو نہیں ہٹا لیکن وعدوں میں کمی آگئی۔اور اس سال چھ لاکھ، اڑتیس ہزار روپے کے وعدے تھے اور پھر جماعت نے سنبھالا لیا اور ظاہری طور پر بھی پیچھے تو جماعت کبھی نہیں ہٹی ، نہ ایک جگہ ٹھہری ہے لیکن ملک کے حالات کی وجہ سے، جس کی تفصیل میں اس وقت جانا مشکل ہے، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وعدے کم ہیں۔لیکن عملاً کم نہیں۔اڑتیسویں سال میں چھ لاکھ پچھتر ہزار روپے کے وعدے اور انتالیسویں سال میں 6