تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 210
خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 03اکتوبر 1975ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ کے ہاتھ میں قرآن کریم کی کامل شریعت تھی، جو تا قیامت بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لئے آپ کو عطا کی گئی۔آپ کی بھی انتہائی شدید مخالفت ہوئی اور آپ کو بھی اور آپ کے ماننے والوں کو بھی شدید تکالیف اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔پھر خود امت محمدیہ میں وہ لوگ ، جو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل کے مصداق تھے، ان میں سے ہر ایک کی خود امت محمدیہ نے مخالفت کی۔وہ بزرگ ہستیاں جنہوں نے فقہ میں امت کی رہبری کی اور جن کے لئے ہم آج بھی دعائیں کرتے ہیں، جیسے حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی ، حضرت امام احمد بن جنبل وغیر ہم اپنے اپنے وقت میں انہیں ہر قسم کی تکالیف پہنچائی گئیں اور بعض کو قتل بھی کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے معاً قبل کی صدی میں نائیجیریا میں حضرت عثمان بن فوری آئے ، انہوں نے مجدد ہونے کا دعویٰ کیا، بدعات سے دین کو صاف کر کے صحیح اسلام لوگوں تک پہنچایا۔لیکن ہوا یہ کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی گئی ، انہیں اور ان کے مشن کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ، اس کے باوجود وہ کامیاب ہوئے اور اسلام ان لوگوں میں اپنی اصل شکل میں قائم ہوا۔اسی ضمن میں حضور نے مزید فرمایا:۔آخر میں حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے وجود میں امام مہدی آئے۔مہدی کے متعلق قرآن میں پیش گوئیاں پائی جاتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا ، جب بھی تم اس کا زمانہ پاؤ، اس کے ساتھ شامل ہو جانا کیونکہ اسلام اس کے ذریعہ سے دنیا میں فتح یاب ہوگا اور غالب آئے گا۔چونکہ امت محمدیہ میں مہدی علیہ السلام سے بڑھ کر اور کوئی پیدا نہیں ہوا، اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس قدر پیار اور آپ کے لئے خدمت و فدائیت کا جو جذ بہ مہدی علیہ السلام میں نظر آتا ہے، وہ کسی اور میں نظر نہیں آتا۔اور اسی لئے یہ ضروری تھا کہ امت محمدیہ میں ظاہر ہونے والے بزرگوں کی جس قدر مخالفت کی گئی تھی، اس سے بڑھ کر مخالفت مہدی علیہ السلام کی جاتی۔پس مخالفت تو ہوگی اور ضرور ہوگی۔لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہی وہ زمانہ ہے، جس میں محبت کے ساتھ، پیار کے ساتھ اور غایت درجہ ہمدردی اور غمخواری کے ساتھ احمدیت نے اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب ترین رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نوع انسان کے دل جیتے ہیں۔210