تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 207
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1975ء سیکنڈے نیویا میں غلبہ اسلام کے لئے اوسلو میں بھی مسجد کا ہونا بہت ضروری ہے خطاب فرمودہ 30 ستمبر 1975ء حضور نے تشہد اور تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔” مجھے آپ دوستوں سے مل کر خوشی کا ہونا ، ایک طبعی امر ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو ایک خاندان بنا دیا ہے۔ایک خطہ میں بسنے والے احمدی جب دوسرے خطہ میں جاتے اور اپنے بھائیوں سے ملتے ہیں تو انہیں آپس میں نہ صرف یہ کہ کوئی غیریت محسوس نہیں ہوتی بلکہ انہیں یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ بحمد اللہ کسی غیر جگہ نہیں، اپنے گھر میں ، اپنے ہی بھائیوں کے درمیان ہیں۔وہ کیوں نہ ایسا محسوس کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک خاندان کی شکل دے کر باہم بھائی بھائی بنادیا ہے۔اس کے بعد حضور نے اپنے ناروے آنے کی غرض پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔”میرے ناروے آنے کی ایک غرض تو یہ تھی کہ میں اپنے دوستوں سے مل سکوں ، سو الحمد للہ، وہ غرض پوری ہوگئی۔دوسری غرض میری یہاں آنے کی یہ تھی کہ میں آپ کو یہ بتاؤں اور یہ امر آپ کے ذہن نشین کراؤں کہ سیکنڈے نیویا میں غلبہ اسلام کی مہم کو تیز کرنے اور اسے مثمر ثمرات بنانے کے لئے اوسلو میں بھی مسجد کا ہونا بہت ضروری ہے۔کسی ملک میں مسجد تعمیر کرنے کے لئے دعاؤں کے ساتھ ساتھ بہت کچھ مادی جد و جہد بھی کرنا پڑتی ہے۔سب سے پہلے تو با موقع اور موزوں قطعہ زمین کی تلاش کا مرحلہ طے کرنا ہوتا ہے۔پھر زمین کی خریداری اور اس کا حصول، اخراجات کا تخمینہ، عمارت کا ڈیزائن ، نقشوں کی تیاری، حسب ضرورت ان نقشوں میں ترمیم وغیرہ۔الغرض بہت سے مراحل ہیں، جن میں سے گزرنا ہوتا ہے۔اور ان مراحل کو طے کرنے کے لئے بڑے صبر واستقلال کے ساتھ مسلسل جدو جہد کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور اس کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے۔اس مرحلہ پر حضور نے سویڈن میں تعمیر کی جانے والی سب سے پہلی مسجد ( جس کا سنگ بنیاد حضور نے 27 ستمبر کو اپنے دست مبارک سے گوشن برگ میں رکھا ہے۔) کے مختلف ابتدائی مراحل کا تفصیل سے ذکر کیا اور بتایا کہ مسجد تعمیر کرنے کے لئے کس قدر دوڑ دھوپ اور جدو جہد کرنا پڑتی ہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔207