تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 202
خلاصه خطبه جمعه فرموده 29 اگست 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم یہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اور احسان ہے کہ وہ احمدی بچوں کو بڑے اچھے ذہن عطا کر رہا ہے۔جہاں ہمارے بچے مختلف امتحانات میں اعلیٰ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، وہاں ہماری بچیاں بھی تعلیمی میدان میں پیچھے نہیں ہیں۔ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ احمدی بچی بی۔ایس سی کے امتحان میں اول آئی۔ویسے اول آنا ایک اعزاز ہونے کے باوجود اتفاقی امر ہوتا ہے۔دراصل ہر سال ایک کلاس اور درجہ سے تعلق رکھنے والے تھیں، چالیس طلباء اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ذہنی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہ کم و بیش ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک لڑکا کسی پرچے میں سب کچھ جاننے کے باوجود کسی نہ کسی وجہ یا کسی وقتی اثر کے ماتحت پورے سوالوں کا جواب لکھ نہیں پاتا، جبکہ دوسرا لڑکا سارے سوالوں کا جواب لکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔وہ جس نے سارے سوالوں کا جواب لکھا تھا ، اول قرار پاتا ہے، جبکہ دوسرا لڑکا اس اعزاز کو حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔لیکن دونوں ذہنی استعداد کے لحاظ سے ہوتے ہیں، ایک ہی سطح پر۔سو اول آنے کو اتنی اہمیت حاصل نہیں ہے، جتنی اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ جن بچوں کو اعلیٰ ذہنی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں، ان کی بہر حال نشو ونما ہونی چاہیے۔اور ان کی نشوونما کی ذمہ داری خود بچوں پر بھی عائد ہوتی ہے اور جماعت پر بھی۔اگر ہمارے نوجوان طالب علم میٹرک، ایف ایس سی بی ایس سی، ایم۔اے اور ایم۔ایس سی وغیرہ امتحانات میں آگے نکلنے کی کوشش کریں تو وہ بازی لے جاسکتے ہیں۔اور ذہنی نشو و نما کے سلسلہ میں ان پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اسے ادا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔اگر بعض لڑکے بازی نہ بھی لے جاسکیں تو ان کی اس کوشش کا یہ نتیجہ تو بہر حال نکلے گا کہ اس طرح ان کی ذہنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی نشو ونما ہوتی رہے گی۔اور وہ جماعت اور قوم و ملک کے لئے مفید وجود بن سکیں گے۔اگر ہم بین الاقوامی سطح پر ستر پچھتر فیصد سے اوپر نمبر لینے والے دو، تین سو بچے پیدا کرنے لگیں تو اس کا بہت اثر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بہت اچھے نتائج رونما ہو سکتے ہیں۔اس کے لئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ احمدی بچے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔دوسرا ضروری امر یہ ہے کہ جماعتی سطح پر اس امر کی کوشش کی جائے کہ کوئی بچہ، جسے اللہ تعالیٰ نے ذہنی دولت عطا کی ہے، جماعت اس دولت کو ضائع نہیں ہونے دے گی۔ایسے بچوں کی ذہنی نشو و نما ضروری ہے۔اور یہ نشو ونما نہیں ہو سکتی ، جب تک کہ دو طرفہ کوشش بروئے کار نہ لائی جائے۔202