تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 195 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 195

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کتابوں کو پڑھنے کی ایک رو پیدا کر دینی چاہیے۔ایسی کتابیں ہوں، جنہیں احباب ہر وقت اٹھتے بیٹھتے مطالعہ میں رکھیں۔آپس میں باتیں کریں۔کسی مسئلہ کو لے کر سوچیں کہ اس کی کیا برکتیں ہیں؟ پہلوں نے اس سے کیا حاصل کیا ؟ ہم اس سے کیوں محروم ہیں؟ اس کے لئے ہمیں کس طرح کوشش کرنی چاہیے؟ کس قسم کا پیار ہمیں اپنے دلوں میں پیدا کرنا چاہیے؟ ہمیں کس قسم کا تعلق اپنے رب سے اور اپنے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے پیدا کرنا چاہیے؟ کس رنگ میں آپ ہمارے لئے اسوہ ہیں؟ کس طرح ہمیں اس اسوہ کو اختیار کرنا چاہیے ؟ کون سی راہ ہے، جس پر چل کر اور کون سا طریق ہے، جس پر گامزن ہو کر اس نور سے حصہ لے سکتے ہیں اور اس سے اپنے سینوں کو اور اپنے ماحول کو اور اپنے خاندانوں کو منور کر سکتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔پس ان باتوں کو یا درکھنا چاہیے، بھول نہیں جانا چاہیے۔انسان اپنی آنکھوں سے بھی علم حاصل کرتا ہے، کانوں سے بھی علم حاصل کرتا ہے اور ناک سے بھی علم حاصل کرتا ہے۔بعض اور حسیں ہیں، ان سے بھی علم حاصل کرتا ہے۔مثلاً وہ اپنی زبان سے بھی علم حاصل کرتا ہے۔زبان سے صرف کھانے والی چیزوں کا ذائقہ ہی نہیں حاصل کیا جاتا۔کیا انسان خدا تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے زبان سے لذت نہیں حاصل کرتا؟ یقیناً حاصل کرتا ہے۔اس لئے محض کھانے کی لذت نہیں، جو زبان سے حاصل ہوتی ہے۔بلکہ روحانی لذتیں بھی ہیں، جو زبان سے ہمیں حاصل ہوتی ہیں۔مثلاً دعا ہے، دعا زبان سے کی جاتی ہے۔ہم خدا سے دعا کرتے ہیں اور اس سے ہمیں ایک قسم کی لذت حاصل ہوتی ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا، ایک دفعہ میرے دماغ میں عجیب خیال پیدا ہوا۔میں نے خدا سے یہ دعا کی کہ اے خدا! کھانا پینا یا اس قسم کی اور ہزاروں چیزیں ہیں، جن کے ذریعہ ہم لذت حاصل کرتے ہیں لیکن ان مادی ذرائع کے علاوہ خود اپنی رحمت سے ایسا سامان پیدا کر کہ میں ایک لذت حاصل کروں۔عجیب دعا تھی ، جو میرے دل سے نکلی لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اس دعا کو قبول کیا اور 24 گھنٹے تک سر سے پاؤں تک میرا جسم سرور حاصل کرتا رہا۔یہ روحانی طور پر زبان کی لذت نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم دعائیں کرتے ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں وہ ہم پر پنے فضلوں کو نازل کرتا ہے۔آخر دعا ہم زبان سے کرتے ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان کا کام صرف چسکے کا ہے کہ کھایا اور مزہ اٹھا لیا۔مادی چیزوں سے حظ اٹھانے کے لئے ہی زبان پیدا نہیں کی گئی۔وہ بھی ضروری ہے۔کیونکہ زندگی اور اس کے قیام کے لئے کھانا پینا بھی ضروری ہے۔لیکن زبان کی لذت صرف یہی نہیں۔یہ بھی ایک چھوٹا سا حصہ ہے، اس لذت کا ، جو زبان کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔اصل لذت 195