تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 194 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 194

خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم کو بھی معرفت سکھائیں۔معرفت ایک تو خود اپنے لئے انس اور لگاؤ اور پیار پیدا کرتی ہے، یعنی اعلی تعلیم خود اپنے حسن کی طرف کھینچتی ہے، لیکن وہ تو ایک ذریعہ ہے، منزل تو نہیں۔وہ تو ایک راہ ہے، خدا تعالی کا پیار دلوں میں پیدا کرنے کے لئے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو صداقتیں پیش کی ہیں، قرآن کریم نے جو ہدایتیں دی ہیں ، وہ ہر ایک کے سامنے حاضر رہنی چاہئیں۔قرآن عظیم میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق ہمیں جو کچھ بتایا گیا ہے، وہ ہمیں بھول نہیں جانا چاہیے۔اسلام کی شرک سے مبرا تعلیم کے ہوتے ہوئے بعض لوگ قبروں پر سجدہ کرتے ہیں۔اسی قسم کی اور بھی بہت سی بدعات ہیں، جو مسلمانوں کے اندر گھس آئی ہیں۔انسان اپنے مالک اور اپنے خالق اور اپنے رب کریم اور اپنے خدائے رحمان، رحیم اور مالک یوم الدین کو بھول جاتا ہے اور راہ ہدایت سے بھٹک جاتا ہے، یہ بڑے فکر کی بات ہے۔پہلوں نے جو غلطی کی ، جماعت احمدیہ کو اس غلطی سے محفوظ رہنا چاہیے۔اسے محفوظ رکھنا چاہیے۔آنے والی نسلوں کے سامنے ایک تربیتی پروگرام کے ماتحت اسلام کی ابدی صداقتوں کو دہراتے چلے جانا چاہئے۔تا کہ وہ غلطی سے محفوظ رہیں۔بڑی دیر ہو گئی، انصار اللہ سے میں نے باتیں نہیں کیں۔بدلے ہوئے حالات کے تقاضے بھی بڑے اہم ہو گئے ہیں۔ہم ایک نازک دور میں داخل ہو گئے ہیں۔اس لئے انصار اللہ کو چاہیے کہ وہ با قاعدہ ایک منصوبہ بنا ئیں۔اس منصوبہ کی تکمیل پر بے شک مہینہ، دو مہینے لگائیں۔لیکن ایک جامع منصوبہ تیار ہو۔اگر ایک خاندان احمدی ہے تو اس ایک خاندان تک بھی قرآن عظیم کی عظیم صداقتیں پہنچ جائیں۔آپس میں تبادلہ خیالات کریں، باتیں کریں اور سوچیں۔پہلوں نے اسلامی صداقتوں سے جو کچھ حاصل کیا ، اس کے متعلق غور کریں۔اور ان باتوں کو اتناد ہرائیں، اتناد ہرائیں کہ وہ ذہن کا ایک حصہ بن جائیں، انسانی دماغ کا ایک جزو بن جائیں اور کوئی رخنہ باقی نہ رہے کہ جس کے ذریعہ شیطانی وساوس انسان کے دماغ میں داخل ہوسکیں۔امید ہے، انصار اللہ اس اہم امر کی طرف توجہ کریں گے اور کوئی ٹھوس پروگرام بنانے سے پہلے مجھ سے مشورہ بھی کرلیں گے۔میں نے ہدایت دی تھی کہ کچھ کتابوں پر مشتمل لٹریچر شائع ہونا چاہیے۔کتابوں میں لٹریچر پڑا ر ہے تو یہ تو کوئی چیز نہیں، اسے سامنے آنا چاہیے، اس کے متعلق تبادلہ خیالات کرنا چاہیے۔باتیں کرنا اور ایک دوسرے سے پوچھنا ضروری ہے۔کیونکہ اگر ہم ایسا نہ کریں تو بعض پہلو جہالت کی وجہ یا نا مجھی کی وجہ سے یا شرم کی وجہ سے بعض دفعہ چھپے رہتے ہیں اور وہ بچوں اور نئے آنے والوں کے سامنے واضح ہو کر نہیں آتے۔194