تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 193
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنچم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جنوری 1975ء ہیں اور ان حقیقتوں کو، جنہیں قرآنی شریعت نے ہمارے سامنے رکھا ہے، ان کو خود سمجھیں اور ان کے مطابق اپنی زندگی گزار دیں اور اپنی چھوٹی نسلوں کو، نو جوانوں کو اور نئے آنے والوں کو بھی اسلامی تعلیمات کی صداقتوں اور قرآنی حقائق سے آگاہ کریں بلکہ ان صداقتوں کو حفظ کرا دیں اور ان کی زندگی کا جزو بنا دیں ، تب ہم خود کو جماعتی ، اجتماعی لحاظ سے اس قابل بنا سکیں گے کہ جو ذمہ داری اگلے تیرہ، چودہ سال میں ہم پر پڑنے والی ہے، - ہم اسے نباہ مکیں۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر سکیں اور اس کی خوشنودی کو پاسکیں۔جو صداقت، مثلاً اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات کے متعلق اسلام نے ہمیں بتائی ہے، وہ تو ایک عجیب اور حسین تعلیم ہے۔بہت سی حقیقتیں ہیں، جو ہم کو بتائی گئی ہیں۔ان کے عرفان اور معرفت کو قرآن کے ذریعہ ہم نے حاصل کیا۔مگر انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح مسلمانوں کی ایک نسل کے بعد دوسری نسل نے یہ صداقتیں بھلادیں اور ان کی طرف توجہ نہیں دی۔یہ کیسے ممکن ہوا؟ لیکن جب ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ عملاً یہ ممکن ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کو ماننے والے عملاً بہت سی بدعات کا شکار ہو گئے۔اور یہ آج کی بات نہیں، پچھلے چودہ سو سال میں ہزاروں، لاکھوں مصلحین نے یہی اعلان کیا کہ صداقتیں تمہیں دی گئیں، آسمان سے نور تمہارے اوپر نازل ہوا، پھر بھی تم اندھیروں میں جا چھپے اور وہ صداقتیں تم سے اوجھل ہو گئیں اور وہ معرفت اور عرفان جاتا رہا، وہ محبت اور وہ عشق کا ماحول قائم نہ رہا۔ایک طرف اتنی عظیم صداقتیں ہیں، اتنا عظیم حسن ہے اور دوسری طرف ان کا نظر سے اوجھل ہو جانا بھی ایک ایسا واقعہ ہے کہ انسانی عقل اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار تو نہیں۔لیکن انسان کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایسا واقعہ ہو گیا۔اس لئے یہ بڑے خطرے کی بات ہے کہ ہم جو بڑے ہیں، ہم جو انصار اللہ کہلاتے ہیں۔ہم اگر اپنے کام سے غافل ہو گئے اور اگر ہم نے اپنی ذمہ داریاں نہ نہا ہیں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ جو بعد میں آنے والی نسل ہے یا جو ان کے بعد آنے والی نسل ہے، وہ کمزوری دکھائے اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا مورد بن جائے۔حالانکہ ان کو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو پائیں۔خدا تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے، وہ تو پورا ہوگا۔ہمیں اپنی اور اپنے بچوں کی اور اپنی نسلوں کی فکر کرنی چاہیے۔اس لئے میں انصار اللہ کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ہر جگہ جہاں ایک یا ایک سے زائد انصار پائے جاتے ہیں، تربیتی ماحول پیدا کریں۔اور اپنے گھروں میں، اپنی مساجد میں ، اپنے ڈیروں میں اور اپنی بیٹھکوں میں ان باتوں کو دہرائیں۔اس شکل میں اور اس تفصیل کے ساتھ ، جو مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے رکھی ہیں۔اور یہ کوشش کریں کہ اس معرفت کے حصول کے بعد دوسروں 193