تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 3
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم۔خطبہ جمعہ فرمودہ 09 نومبر 1973ء ماتحت ایسا مسئلہ گھڑا تھا؟ ہم تو اسے نہیں مانتے۔اور جہاں تک مسیح علیہ السلام کی محبت کا سوال ہے، وہ تو دلوں سے اس طرح مٹی کہ ہمارے لئے دکھ کا باعث بن گئی۔اس دورہ میں ایک جگہ میں نے کھل کر ( اور ویسے عام طور پر باتوں باتوں میں ) اس کا ذکر کیا اور پریس کانفرنس میں مجھے کہنا پڑا، میں نے کہا، دیکھو! ہم مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خدا نہیں مانتے لیکن ہم مسیح علیہ السلام کو خدا کا ایک برگزیدہ رسول مانتے ہیں۔ان کی رسالت پر جیسا کہ باقی تمام انبیاء کی رسالت پر ایک مسلمان کا ایمان لانا ضروری ہے، ہم ایمان لاتے ہیں۔لیکن ہم حیران ہیں کہ تم جو بڑی شدت کے ساتھ اور غلو کے ساتھ ان کے پیار کا دعویٰ کرتے ہو، تمہارے پیار کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک بشپ صاحب نے چرچ کے اندر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ ساری عمر کی تحقیق جو میں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کے متعلق کی ، اس کا نتیجہ میں یہ نکالتا ہوں کہ میں نے کہا یہ تمہاری محبت کا تقاضا ہے۔سووہ غلوتو ٹوٹ چکا۔ہم نے نہیں تو ڑا، نہ ہم اس حد تک تو ڑ سکتے تھے۔کیونکہ ہم تو مسیح علیہ السلام کو خدا کا ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں۔لیکن ان کے دلوں کو جھنجوڑا گیا اور وہ صداقت پر قائم رہنے کی بجائے چھلانگ لگا کر دوسری طرف چلے گئے۔اور پہلے ایک انتہا پر تھے، اب دوسری انتہاء پر پہنچ گئے۔صراط مستقیم نہ پہلے ان کے پاس تھا، نہ بعد میں رہا۔لیکن شکل بدل گئی۔اور یہ ہمیں پہلے سے بتایا گیا تھا۔پس یہ متوازی حرکتیں تھیں، ایک جماعت احمدیہ کے مخلصین کی ، خدا کی راہ میں جدو جہد اور مجاہدہ، جو خیالات میں تبدیلی پیدا کر رہا تھا، لٹریچر تقسیم کر کے، صداقت ان کے سامنے رکھ کر، تقریر سے، گفتگو سے تحریر سے، اخبارات میں مضمون شائع کرنے سے۔اور پہلے بھی میں نے بتایا، مثلاً اس مرتبہ میں نے جو اسلام کی تعلیم کا رخ اور پہلوان کے سامنے رکھا۔اسلام کی تعلیم تو بڑی وسیع ہے، اس کی تفاصیل گھنٹے یا دو گھنٹے کی پریس کانفرنس میں تو نہیں بتائی جاسکتیں۔بعض پہلوؤں کا انتخاب کر کے ان کو قائل کرنے کے لئے بتانے پڑتے ہیں۔تو کسی ایک شخص نے کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں کہا کہ جو باتیں آپ ہم سے کر رہے ہیں اور اسلام کا یہ پہلو جو آپ ہمارے سامنے رکھ رہے ہیں، ہم اس سے اختلاف کرتے ہیں اور اسے ماننے کے لئے تیار نہیں۔بلکہ ہر جگہ ان کے سر اقرار میں ہے۔جیسا کہ میں نے کہا، ایک دو افراد نے مجھے سے یہ سوال کیا کہ آپ جو باتیں ہمیں بتا رہے ہیں، یہ بہت اچھی ہیں اور اس کی تعلیم بہت ہی اچھی ہے اور حسین ہے۔لیکن ہمارے عوام تک پہنچانے کے لئے آپ نے اس کا کیا انتظام کیا ہے؟ تحریک جدید نے پڑھے لکھے لوگوں کے خیالات میں جو کہ اسلام کے خلاف فضا کو خراب کرنے والے تھے، تبدیلی پیدا کی۔3