تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 162
خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم کتاب اور انسانیت اور مذاہب کے دشمن اہل الحاد یہ تینوں طاقتیں اکھٹی ہو کر نشاۃ ثانیہ کو مغلوب کرنے کے لئے افق اسلام پر ابھری ہیں۔جو وعدہ اس وقت مسلمانوں کو دیا گیا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ انہی آیتوں میں ہمارے لئے بھی وعدہ ہے کہ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَتُونَ الدُّبُرَ ( القمر : 46) تم جمع تو ہو گئے ہو۔تم مختلف متضاد طاقتیں ہو، جو اسلام کو مغلوب کرنے کے لئے اکٹھی ہو کر سامنے آگئی ہو۔لیکن سيهزم الجمع تمہارا اتحاد تمہیں کامیابی کی طرف نہیں لے جائے گا۔بلکہ تم پیٹھ پھیر کے بھاگ جاؤں گے اور نا کام ہو گے، انشاء اللہ تعالی۔اس لئے کے زمین کے سینے میں پٹرول کی شکل میں جو دولت باہر نکل رہی ہے اور ہمارے خلاف استعمال ہورہی ہے، وہ اس دولت کا مقابلہ نہیں کرسکتی، جو ایک مسلمان مخلص دل کے قربانی اور ایثار کے چشمے سے نکلتی ہے۔اور جو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو جذب کرتی ہے۔کیا تیل کے چشموں سے حاصل کی ہوئی دولت ایک مومن ایثار پیشہ کے دل کے چشمہ سے نکلی ہوئی دولت کا کبھی مقابلہ کرسکتی ہے؟ جب سے آدم پیدا ہوئے ، اس وقت سے لے کر قیامت تک ایسا کبھی نہیں ہوگا۔یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہر مذہب کے ماننے والوں کے سامنے رکھا گیا تھا، جب وہ مذہب دنیا میں آئے۔اس لئے فکر کی کوئی بات نہیں۔اسی واسطے یہ مضمون میرے دماغ میں آیا تھا اور آج میں نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ مضمون ذرا گہرا تھا لیکن مجھے بہت مختصر کرنا پڑا۔پس ہر احمدی کے دل کے اندر یہ یقین ہونا چاہئے کہ اِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ خدا تعالیٰ کا وعدہ حق ہے۔اس کے خلاف ہو ہی نہیں سکتا۔جب یہ یقین اپنے کمال کو پہنچ جائے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا جذبہ بھی اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے۔اور جب کسی قوم میں خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینے کا جذبہ اپنے کمال کو پہنچ جائے تو اس وقت دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کو مٹانے کے قابل نہیں ہو سکتی۔نہ کبھی ہوئی اور نہ بھی ہوسکتی ہے۔یہ اللہ کا فضل ہے، ہم کچھ بھی نہیں ہیں، ہمیں اس کا اقرار ہے۔اور ہم یہ کہتے ہوئے شرم نہیں محسوس ہوتی۔بلکہ جب ہم دوسروں کے ساتھ باتیں کرتے ہیں تو میں خود اس وقت کہا کرتا ہوں کہ ہم بالکل بے حیثیت لوگ ہیں۔لیکن جس ہستی کا ہم نے دامن پکڑا ہے، وہ تو بے حیثیت نہیں۔ساری حیثیتیں اسی چشمہ سے نکلتی اور باہر پھیلتی ہیں۔پس ہم سے تمہاری جنگ نہیں۔بلکہ اپنے پیدا کرنے 162