تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 149 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 149

تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء بھجوادیے تھے۔گیمبیا کا بھی مطالبہ آ رہا ہے۔میں نے کہہ دیا ہے کہ انگلستان سے خرید لو۔امریکہ میں پہلے سے پریس موجود ہے۔وہ اگر چہ ہے تو ایک فرد کی کوشش کا نتیجہ لیکن اس سے وہ سارے جماعتی کام بھی کرتے ہیں۔اشاعت لٹریچر اور تراجم قرآن کریم کے سلسلہ میں ہمارے اپنے پر لیس ہونے چاہئیں۔جو چیز دوسروں سے چھپواتے ہیں، وہ اگر اپنے پریس میں چھپوائی جائے تو جو چیز 20 روپے میں آتی ہے ، وہ 5 روپے میں پڑے گی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس جتنے پیسے ہیں، اگر ان سے ہم ایک لا کھ نسخہ دوسروں سے چھپوا کر شائع کر سکتے ہیں تو اس کی نسبت اس رقم کے اندر چارلاکھ نسخے ہم خود شائع کر سکتے ہیں۔* پس اپنے پریس بہت ضروری ہیں۔لیکن چونکہ دنیا کے حالات بدل رہے ہیں، نئی نئی تو میں ابھر رہی ہیں، وہ آزادی کا مفہوم قید و بند کی سختی میں تصور کرتے ہیں۔ہمارے ملک کی حالت بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔اب ہمارا وہ چھوٹا پریس مفت آرہا تھا، لیکن امپورٹ کی اجازت دینے پر چار مہینے لگا دیئے۔بندہ خدا تمہارے ملک کا فائدہ ہے۔ایک چیز مفت آرہی ہے، اس پر اتنی دیر نہیں کرنی چاہیے۔جب پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں، جی ، اب فلاں محکمے میں کیس گیا ہوا ہے، اب فلاں محکمے میں گیا ہوا ہے۔اور کچھ نہیں کر سکتے تھے تو سوچا کہ جماعت کو اس طرح تنگ کرو اور دو، چار مہینے کا وقفہ ڈال دو۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑا صبر عطا فر مایا ہے۔ہم صبر کریں گے۔ہم نے ایک بڑا پریس لگانا ہے۔لاہور سے پتہ کرایا تو معلوم ہوا کہ لاہور میں جو امپورٹ ایکسپورٹ کا محکمہ ہے، پہلے اس کو یہ اختیار تھا کہ ہمیں پریس کے لئے آفسٹ مشینیں اور دوسری مشینری بھیج دے یا باہر سے منگوانے کی اجازت دے دے۔لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ حکم ہے کہ اس کی اجازت صرف مرکز دے سکتا ہے، ہمیں اختیار نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اپنی بیوقوفی سے اس پر بھی ناجائز کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔یہ بات چلے گی نہیں۔کیونکہ یہ اثر پیپلز پارٹی کے اندر ایک حصے کا ، جو Leftist یعنی کمیونسٹ ہیں، یہ ان کی تھنگنگ ہے۔بھلے مانس لوگوں اور مذہب سے دلچسپی رکھنے والوں کی یہ چھنگنگ نہیں ہے۔لیکن بہر حال وہ طبقہ بیچ میں ہے۔ہماری قوم اشتراکیت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بڑے بیوقوف ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں اشتراکی معاشرہ یا اشترا کی اقتصادیات چالو کی جاسکتی ہے۔لیکن بہر حال وقتی طور پر ہمیں تکلیف بھی پہنچ سکتی ہے۔ہم نے انتظار تو نہیں کرنا کہ جب اللہ تعالیٰ اس ملک کو ہدایت دے، تب ہم اپنا منصوبہ بنائیں گے۔ہم نے تو ابھی سے سوچنا ہے۔اگر ایک جگہ ہمارا راستہ بند ہوتا ہے تو دوسری جگہ جو راستہ کھلا ہے، اس کو اختیار کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں چوہے کی نسبت لاکھوں گنازیادہ عقل اور فراست عطا کی ہے۔چوہا کئی سوراخ بناتا ہے۔اگر ایک سوراخ بند ہو جائے تو دوسری طرف نکل جاتا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے انسان اور 149