تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 138 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 138

خطاب فرمودہ 29 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم وہاں کمانے کے لئے گئے ہوئے ہیں۔میرا خیال ہے کہ امریکہ کے جو اصل باشندے احمدی ہیں، ان کا اس میں بمشکل 8, 7 ہزار ڈالر کا حصہ ہوگا۔یا دس ہزار ڈالر کا ہوگا ، اس سے زیادہ نہیں۔لیکن جلسہ سالانہ سے واپس جانے کے بعد جب صد سالہ جو بلی فنڈ کی تحریک ہوئی تو وہاں سے جو وعدے اس وقت تک موصول ہو چکے ہیں، ابھی مزید وعدے متوقع ہیں، وہ 28 ہزار ڈالرز کے مقابلے میں چار لاکھ ڈالرز کے ہیں۔اور ان میں بہت بڑا حصہ وہاں کے اصل باشندوں کا ہے۔ہمارے پاکستانیوں کے بارہ میں ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ ان کے پتے بھجوائے جائیں تاکہ ان سب کو اس میں حصہ لینے کی تحریک کی جاسکے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا۔اللہ تعالی علام الغیوب ہے اور بڑا پیار کرنے والا بھی ہے۔اور اس کا ایک منصوبہ ہے، جو اس کے دست قدرت نے بنایا ہے۔جس کے ماتحت اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کا نزول ہوا اور آپ کی بعثت ہوئی۔اور دنیا کے سامنے اسلام کے غلبہ کا اعلان کیا گیا۔اللہ تعالیٰ خود اپنی تدبیریں کرتا ہے۔انسان کو تو غیب کا علم ہی نہیں۔وہ تو یہ جانتا ہی نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے؟ سوائے اس کے کہ خود اللہ تعالیٰ کسی کو غیب کا علم دے۔مثلاً مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک خوشی پہنچائی ہے، وہ میں آپ تک بھی پہنچانا چاہتا ہوں۔کیونکہ آپ بھی اس میں شریک ہیں۔بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات بعض بڑی محدود قسم کی پریشانی لاحق تھی۔کوئی جماعتی پریشانی تھی۔بہر حال میرے لئے پریشانی کی رات تھی اور اسی پریشانی میں رات گزری۔میں نے اس میں بڑی دعائیں کیں۔اور اس پریشانی کے سلسلے میں تو اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا کہ انذار کا پہلو ہے لیکن جب رات گزرگئی تو میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، میں مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے نہ جا سکا۔میں جاگ رہا تھا کہ اذان ہوئی اور پھر اسی وقت نیم غنودگی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے میری پریشانی کو اس طرح دور کیا کہ ہمارے ایک بچے کے ہاں ایک بڑھیا رہتی ہے، جس کا نام ہے، بشیراں۔تو میں نے دیکھا کہ ہمارے برآمدے میں اپنے گھر کے بچے ہیں، بشیراں کی باچھیں کھلی ہوئی ہیں اور ماحول بڑا روشن ہے اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی ہے۔وہ مجھے کہتی ہے، حضور ! عید مبارک ہووے۔میں دروازہ کے پاس کھڑا ہوں اور نظر او پر گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ 6, 5 دن کا چاند نظر آیا۔میں نے دماغ میں سوچا کہ چاند اتنے دن کا ہو گیا ہے، یہ مجھے کیسی عید مبارک دے رہی ہے؟ پھر اچانگ اس نیم غنودگی میں کچھ اور بیداری کے آثار پیدا ہوئے اور میں نے سوچا کہ ابھی تو عید گذری ہے، اس لئے یہ تو وہ عید نہیں ہے، جو ہر سال آتی ہے۔بلکہ یہ تو کوئی بہت بڑی عید ہے۔اجتماعی خوشی کو عید کہتے ہیں۔پس بہت بڑی اجتماعی خوشی کے سامان اللہ تعالیٰ ہمارے لئے پیدا کر رہا ہے۔138